اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 266 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 266

۲۶۶ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی (۱۳۶) بھی توفی بطور نامت کے جو مذکور ہے وہ رات بھر تک ہوتی ہے نہ دو ہزار برس تک بلکہ اسمیں تو تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ رات میں سلا دیتا ہے اور دن میں اُٹھا دیتا ہے وَهُوَ الَّذِي يَتَوَقْكُمْ بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضَى أَجَلُّ مُّسَمًّى اور اگر بطور حکماء کے بھی اس بارہ میں نظر کی جاوے تو بھی یہی مطلب جو ہم نے تفسیر آیات مذکورہ میں لکھا ثابت ہوتا ہے چنانچہ حواشی بیضاوی میں لکھا ہے ۔ قال الزعفراني ناقلا عن الامام النفس الانسانية جوهر مشرق روحانى اذا تعلق بالبدن حصل ضوءه في جميع الاعضاء وهو الحيوة ففى وقت الوفاة ينقطع ضوءه عن ظاهر البدن وباطنه وذلك هو الموت و اما فى وقت النوم فينقطع ضوء ة عن ظاهر البدن من بعض الوجوه ولا ينقطع عن باطنه فثبت ان النوم والموت من جنس واحد لكن الموت انقطاع تام والنوم انقطاع ناقص انتھی ۔ پس اگر انقطاع ناقص ہوتا تو ضرور بحكم وَيُرْسِلُ الأخرى کے حضرت عیسی" جاگ اُٹھتے ۔ جبکہ دو ہزار برس سے ابھی تک نہیں جاگے تو معلوم ہوا۔ کہ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ لَے مصداق ہو گئے ہیں اور انقطاع تام ہو چکا ہے۔ قولہ اور قسم دوم کا جواب الی قولہ ان آیات کی مخصص واقع ہوئی ہے۔ اقول اس آیت کا حال تو معلوم ہو چکا غایت الا مر یہ ہے کہ حیات مسیح میں متشابہ ہے پھر کیونکر مختص ہوسکتی ہے۔ علاوہ یہ کہ جب وفات عیسی بن مریم بطور اخبار کے ثابت ہو چکی تو اب اس آیت یا کسی اور آیت سے حیات کیونکر ثابت ہوگی یہ تو اخبار ماضیہ کاسخ ہوا جاتا ہے اور بموجب قواعد اصول کے اخبار میں نسخ ہرگز جائز نہیں ہے کیونکہ ایسے نسخ سے کلام باری تعالیٰ میں کذب صریح لازم آتا ہے۔ واللازم بـاطــل فــالــمـلـزوم مثله ـ قوله صح معافی ان آیات کے وہ ہیں جو تفاسیر معتبرہ میں مذکور ہیں ۔ الخ اقول جو معانی ان آیات کے حضرت اقدس مرزا صاحب نے تحریر فرمائے ہیں وہ تفاسیر معتبرہ میں لکھے ہوئے ہیں۔ معہذا علوم رسمیہ جو خادم کتاب ہیں اُن کے بھی موافق ہیں ۔ جب جناب جواب تفصیلی از التہ الا وہام کا تحریر فرمادینگے اور اُن معانی حقہ کا ابطال کرینگے تو انشاء اللہ تعالیٰ مفصلاً ومشرحا احقاق حق کیا جاوے گا۔ وَاخِرُ دَعْوانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الانعام : ٢٦١ الزمر : ۴۳