اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 250
۲۵۰ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی ۱۲۰ قد اوماً في معناه مثل ربما و قد يقدر قد يكتفى باللام باللفظ ولا يكتفى بقد الا اذا طال القسم او كان في ضرورة الشعر نحو قوله تعالى قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا و ان كان مضارعا استقباليا يلزمها للام مع نون التاكيد ان دخلت اللام على نفس المضارع الا نادرا اوّلا يكتفى عن الام بالنون الا في ضرورة الشعر واذا لم يــدخــل اللام على نفس المضارع يكتفى باللام نحو لَبِنْ قُتُمُ أَوْ قُتِلْتُمْ لإِلَى اللهِ تُحْشَرُونَ - وان كان مضارعا حاليا يكون باللام من غير النون و اما جملة فعلية منفية فيلزمها فى الماضى ما اولا و الا يلزم تكرار لا ههنا لان الماضي منقلب في الجواب مع الاستقبال و فى المضارع استقباليا كان او حاليا ما اولا مع النون او بدونها ۔ الخ ۔ اب اگر قسم کے جواب مثبت فعلی میں مراد متکلم کے دوام تجددی ہو یا حال و استقبال دونوں مراد ہوں جو چوتھی اور پانچویں صورت ہے تو اس کے واسطے بھی وہی صیغہ مضارع کا مؤکد بلام تا کیدونون تاکید بولیں گے اگر مولوی صاحب اس کو نا جائز فرماویں تو بحوالہ ائمہ کبار نحو کے جو سابق مذکور ہو چکے اس مراد کے واسطے کوئی صیغه استخراج فرمادیں ورنہ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ایسے مافی الضمیر کے لئے کوئی صیغہ اور پتہ نشان عرب میں موجود نہ ہو۔ بینوا توجروا حاصل یہ ہے کہ قسم کے جواب کے واسطے صرف استقبال کا ہونا کچھ واجب اور لازم نہیں ہے بلکہ جواب فسم کبھی ماضی ہوتا ہے کبھی حال کبھی استقبال کبھی استمرار اور دوام تجد دی اور نیز سابق از میں علم بلاغت سے ثابت ہو چکا کہ صیغہ مستقبل کا واسطے استمرار اور دوام تجددی کے مستعمل ہوتا ہے۔ پس اگر جواب قسم کا صیغہ مستقبل مؤکد بلام تا کیدونون تاکید ہو دے تو اس کی امتناع دوام تجددی کے لئے ہونے میں یا حال و استقبال دونوں مراد ہونے میں کونسی دلیل نحوی قائم کی گئی ہے باوجود یکہ لام تاکید بھی جو حال کے واسطے آتا ہے اس میں موجود ہے اگر کوئی ایسی دلیل اکابرائمہ نوبین سے بطور اجماع کے منقول ہوئی ہو تو بیان کی جاوے اُس میں نظر کی جاوے گی بلکہ جو آیات کہ جناب نے بطور شواہد کے اپنے مدعا کے واسطے لکھی ہیں۔ ان میں اکثر آیات واسطے استمرار اور دوام تجددی کے لئے اور حال و استقبال دونوں زمانوں کے واسطے ہو سکتی ہیں کوئی محذور الشمس: ١٠ ال عمران : ۱۵۹