اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 248
۲۴۸ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی ۱۸ لاویں۔ قال الله تعالى وَإِذْ أَخَذَ اللهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّنَ لَمَا أَتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَبٍ وَ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِقُ لِمَا مَعَكُمْ تُؤْمِنُنَ به وَلَتَنْصُرُنَّهُ ، قَالَ : أَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ اِصْرِى قَالُوا اَقْرَرْنَا ، قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِّنَ القُهِدِينَ - فَمَنْ تَوَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَبِكَ هُمُ الْفُسِقُونَ لے ۔ مولانا صاحب یہی گر تھا کہ حضرت میاں صاحب مد ظلہ اور محمد حسین نے جناب والا کو بہت فہمائیش کی کہ یہ آیت مطلوب میں قطعی الدلالت نہیں اس آیت کو آپ بمقابل مرزا صاحب ہرگز پیش نہ کریں کیونکہ یہ دونوں صاحب اس آیہ کے نشیب و فراز سے واقف تھے مگر جناب نے ان کی فہمالیش کو قبول نہ فرمایا اور تفسیر ابن کثیر پر تکیہ کرلیا۔ آپ کے شان محققی سے یہ امر نہایت بعید ہے۔ بحث لام تاکید بانون تاکید ثقیله از ہری وغیرہ نے تصریح میں تصریح کی ہے کہ لام تاکید کا حال کے واسطے آتا ہے۔ اب تسلیم کیا که فقط نون تاکید صرف استقبال کے واسطے ہے لیکن جب کہ کسی صیغہ میں لام تاکید بھی ہو ۔ جو حال کے واسطے آتا ہے اور نون تاکید بھی ہو۔ چنانچہ ما نحن فيه میں ہے تو وہاں پر خالص استقبال بالضرور ہونے کی کیا وجہ ۔ اس کی کوئی دلیل مولوی صاحب نے نحو سے ارشاد نہیں فرمائی۔ اور تقریب دلیل محض نا تمام رہی ہے۔ یہ مانا کہ صرف نون تاکید استقبال کے واسطے نحو میں لکھا ہے ۔ امر نہیں۔ استفہام تمنی - عرض وغیرہ ان میں صرف نون تاکید ہوتا ہے۔ بغیر لام تاکید کے۔ پس ان صیغوں میں صرف استقبال ضرور مراد ہوسکتا ہے۔ لیکن جس صیغہ میں لام تاکید بھی ہواور نون تاکید بھی اس میں خالص ہونے استقبال کی کیا دلیل ہے۔ شاید مولوی صاحب نے ازہری کی اس عبارت سے یہ بات مجھی ہے کہ لانھما تخلصان مدخولهما للاستقبال ہم کہتے ہیں کہ یہاں پر استقبال سے صرف صیغہ استقبال مراد ہے جس کی نسبت السنہ اطفال پر جاری ہے کہ صیغہ حال ہمچو صیغہ استقبال است اور یہ بات خود از ہری کی عبارت سے بھی معلوم ہوتی ہے کہ ذلک ینافی الماضی اگر مراد از هری کی خالص زمانہ استقبال ہوتی تو کہتا کہ وذلك ينافي الماضى والحال اور اس واسطے قسم کے جواب مثبت میں کوئی شرط زمانہ استقبال کی نہیں رہتی صرف صلاحیت تامہ فعلی کے واسطے دخول نون کی تمام کتب نحو میں لکھی ہے آل عمران: ۸۲-۸۳