اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 247
۲۴۷ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی يقال زيد يصلّى والحال ان بعض صلوته ماض وبعضها باق فجعلوا الصلوة الواقعة في الأنات الكثيرة المتعاقبة واقعة فى الحال و تعيين مقدار الحال مفوض الـى الـعـرف بحسب الا فعال ولايتعين له مقدار مخصوص فانه يقال زيد ياكل ويمشى ويحج ويكتب القرآن ويعد كل ذلک حالا ولا شک فی اختلاف مقادیر از منتھا ۔ اور السید السند ایسی ہی تدقیقات کی نسبت حواشی مطول میں تحریر فرماتے ہیں۔والــحــق انها مناقشات واهية لان هذه التعريفات بينات يفهم اهل اللغة منها ومن تلك العبارات ماهو المقصود بها ولا يخطر ببالهم شيء مما ذكروا أما التدقيق فيها فيستفاد من علوم اخر يلاحظ فيها جانب المعنى دون القواعد اللفظية المبنية على الظواهر انتهى موضع الحاجة بحث بطرز دیگر بابت مرجع ضمیر قبل موته اگر ضمیر قبل موتہ کی حضرت عیسی کی طرف رجوع کر کر وہ معنے لئے جاویں جو مولوی صاحب لیتے ہیں تو ایک اور فساد لازم آتا ہے اور وہ کہ سے معزول و عاری اور حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل ہو کر آدیں گے اور سب کو یہ دعوت کریں گے کہ اسلام لا کر حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل ہو جاؤ۔ مگر یہاں پر عکس القضیہ ہوا جاتا ہے۔ حضرت خاتم النبین پر ایمان لانے کا تو کچھ ذکر نہ ہوا اور ایک شخص امتی پر ایمان لانے کا ذکر فرمایا گیا۔ لیکن کسی امتی پر ایمان لانے کے کوئی عمدہ معنے قابل التفات نہیں معلوم ہوتے ۔ اور اگر کہو کہ حضرت عیسی پر ایمان لانا مستلزم ہے۔ ہمارے پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے واسطے تو یہ گذارش ہے کہ سلمنا لیکن یہ ایمان ضمن میں ایمان بعیسی کے بالتبع حاصل ہوا نہ بالاصل جو مقصود اصلی اللہ تعالیٰ کا ہے۔ پس مقصود اصلی کو ترک کرنا اور غیر مقصود کو اختیار کرنا جس سے طرح طرح کے تو ہمات ختم نبوت میں پیدا ہوتے ہیں کیا ضرورت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تو وہ مرتبہ ہے کہ تمام انبیاء کو بہ تاکید تمام حکم ہوا ہے ۔ اور ان سے اقرار و میثاق کیا گیا ہے کہ وہ سب حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ا سکرت میسٹی نبوت