اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 190
روحانی خزائن جلد۴ ۱۹۰ الحق مباحثہ دہلی به ۲۰ اور کوئی سات گھنٹہ تک ان کی موت کا قائل ہے اور کوئی تین دن تک جیسا کہ فتح البیان اور معالم التنزیل اور تفسیر کبیر وغیرہ تفاسیر سے ظاہر ہے تو پھر اس صورت میں اس وہم کی اور بھی بیخ کنی ہوتی ہے کہ مسیح کی موت سے پہلے سب اہل کتاب ایمان لے آویں گے ۔ غرض آپ کا نور قلب شہادت دے سکتا ہے کہ جس قدر میں نے لکھا ہے آپ کے دعوے قطعية الدلالت کے توڑنے کیلئے کافی ہے قطعية الدلالت اس کو کہتے ہیں جس میں کوئی دوسرا احتمال پیدا نہ ہو سکے مگر آپ جانتے ہیں کہ اکابر صحابہ اور تابعین کے گروہ نے آپ کے معنے قبول نہیں کئے اور مفسرین نے جابجا اس آپ کی تاویل کو قیل کے لفظ سے بیان کیا ہے جو ضعف روایت پر دلالت کرتا ہے ۔ عام رائے تفسیروں کی یہی پائی جاتی ہے کہ قراءت قبل موتھم کے موافق معنے کرنے چاہیے اور ضمیر بہ کا نہ صرف حضرت عیسی کی طرف بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ جل شانہ کی طرف پھیرتے ہیں۔ اب آپ کی رائے کی قطعیت کیونکر باقی رہ سکتی ہے۔ برائے خدا خوف الہی کو ہاتھ سے نہ دیں آپ کے منہ کی طرف صد ہا آدمی دیکھ رہے ہیں اس زمانہ میں تمام لوگ اندھے نہیں فریقین کے بیانات شائع ہونے کے بعد پبلک خود فیصلہ کر لے گی لیکن جن لوگوں کے دلوں پر آپ کی رائے کا اثر پڑے گا اس کے ذمہ دار اور اس کے مؤاخذہ کے جوابدہ آپ ٹھہریں گے۔ اور میں نے جو آپ کے قاعدہ نون ثقیلہ کا نام جدید رکھا تو اس کی یہی وجہ ہے کہ اگر آپ کا یہ قاعدہ تسلیم کر لیا جائے تو نعوذ باللہ بقول آپ کے ابن عباس جیسے صحابی کو جاہل و نادان قرار دینا پڑتا ہے اور قراءت قبل موتهم کوخواه نخواه افتر اقرار دینا پڑے گا اور آپ کے تحویوں کو معصوم عن الخطا مانا پڑے گا آپ تو اللہ رسول کے متبع تھے۔ سیبویہ اور خلیل کے کب سے متبع ہو گئے اب میں آپ کے اقوال باقی ماندہ کو بطرز قولہ اقول کے رد کرتا ہوں۔ قولہ ایسے معنے کرنا فاسد ہے کہ یہ کہا جائے کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے سلے مسیح پر ایمان نہیں لائے گا کیونکہ یہ معنے نفس الامر میں تینوں زمانوں پر شامل ہیں۔ اقول جب کہ یہ معنی ابن عباس اور عکرمہ اور علی بن طلحہ وغیرہ صحابہ و تابعین کرتے ہیں اور قرآن ابی بن کعب انہی معنوں کے مطابق ہے تو کیا آپ کا یہ نحوی قاعدہ ان اکابر کو جاہل قرار دے سکتا ہے اور کیا صدہا مفسرین بلکہ ہزار ہا جو اب تک یہ معنے کرتے آئے وہ جاہل مطلق اور آپ کی نحو سے غافل تھے ۔ جب تک ان ہزاروں اکابر کا نام آپ قطعی طور پر جاہل نہ قرار دے دیں