اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 151
روحانی خزائن جلد۴ ۱۵۱ الحق مباحثہ دہلی مباحثه مابین حضرت اقدس مرزاغلام احمد قادیانی مسیح موعود اور مولوی محمد بشیر صاحب بھوپالی دہلی میں پرچہ نمبر (۱) مولوی محمد بشیر صاحب بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الحمد لله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى اما بعد ارباب علم و دین پر مخفی نہر ہے کہ اصل دعوی جناب مرزا صاحب کا مسیح موعود ہونے کا ہے لیکن جناب ممدوح کے محض اصرار بلیغ سے مباحثہ حیات و وفات مسیح علیہ السلام میں منظور کیا گیا ہے اور اس مسئلہ میں بھی اصل منصب جناب مرزا صاحب کا مدعی کا ہے لیکن صرف جناب ممدوح کے اصرار سے ہی یہ بھی قبول کیا گیا کہ پہلے یہ عاجز ادلہ حیات مسیح علیہ السلام تحریر کرے اور اس میں بحث صعود ونزول وغیرہ کا خلط نہ کیا جائے فاقول بحول الله وقوته وما توفیقی الا به علیه توکلت واليه انیب۔ جاننا چاہئے کہ دلیلیں حیات مسیح علیہ السلام کی پانچ آیتیں ہیں۔ دلیل اول یہ ہے۔ قال الله تعالى في سورة النساء وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْ مِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا وجہ استدلال کی یہ ہے کہ لیؤمئن میں نون تاکید کا آیا ہے اور نون تاکید مضارع کو خالص استقبال کے لئے کر دیتا ہے ۔ ماضی اور حال کی تاکید کے لئے نون نہیں آتا ہے ازہری تصریح میں لکھتا ہے۔ ولايوكد بهما الماضى لفظًا و معنى م يخلصان مدخولهما للاستقبال و ذالك ينافی الماضی۔ انتھی اور دوسری جگہ لکھتا ہے النساء: ۱۲۰ مطلقًا لا نهما ۲۱