اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 146

روحانی خزائن جلدم ۱۴۶ ۱۲ دعاامة من ههنا ثم ههنا ۹۵ فقـال ســويــداء الـقـلـوب لهـا لبـي يؤثر في اتبـــاعــه مايقوله ۹۶ ويكثرهـم يـومــا فيوما ولا يكبى ويحمده من شط منه ومن دنا ۹۷ سوى من يرى في الدين غير اولى الارب وكم من كبيـر الـقـوم اصغى وانما ۹۸ حذارًا على الدنيا نأى عنه بالجنب فلم يبق الا من تعدی بجهله ۹۹ یــمــاري مــراء عـن غـوايـــه يـنـي اذا قيل برز و اختبره مناظرًا ١٠٠ يفرويهذي بالوقاحة والجهب واكبر من أغراه نشوة جَهله ۱۰۱ بانکاره من يدعى العلم عن كذب يميل الى الطاغوت طورًا وتارة ۱۰۲ الى الرفض ثم الى النيجر الكفر كالص ومتبع طــورا و وقتًا مقلد ١٠٣ وعبد النصارى مرة نـاصـرا لصلب تـزبـا بـزى الكفر يشرى به الهدى ۱۰۴ ويبغى رضى الكفار في سخط الرب ۹۵۔ اس نے قوم کو ہر سمت سے آواز دی جسے سن کر سویدائے دل نے کہا کہ اسے مان ہی لو۔ ۹۶ - آپکا کلام مجز نظام پیروؤں کے دلوں میں پوری تاثیر کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ انہیں روز افزوں ترقی نصیب ہو رہی ہے۔ تنزل نہیں۔ ۹۷ ۔ سب ہی نزدیک و دور آپ کی مدح سرائی کرتے ہیں۔ سوائے اس بد قسمت کے جسے دین سے کوئی غرض واسطہ نہ ہو۔ ۹۸۔ بڑے بڑے سرداران قوم کو آپکی باتیں دل میں لگ جاتی ہیں۔ مگر پھر دنیا سے ڈر کر آپ سے الگ ہو جاتے ہیں۔ 9۔ اب سوائے جاہل بے اندام کے اور کوئی نہیں رہا جو ناحق کے جھگڑوں سے اپنی گمراہی کا ثبوت دیتا ہے۔ ۱۰۰۔ جب اسے کہو میدان میں نکل اور مناظرہ کر کے حضرت مثیل کو آزما لے تو نوک دم بھاگتا اور نا گفتنی با تیں منہ پر لاتا ہے۔ ۱۰۱۔ اور سب سے بڑھ کر ایک جاہل ہے جو نادانی کے نشے میں چور ہوکر انکار پر کھڑا اور علم کا جھوٹا دعوی کرتا ہے۔ ۱۰۲۔ بھی تو وہ پاگل آدمی کی طرح طاغوت کی طرف جھک پڑتا ہے۔ بھی رافضی بن جاتا اور کبھی فرقہ ضالہ نیچریہ کا پہلو اختیار کر لیتا ہے۔ اسی کا غلام ۱۰۳۔ وہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا رہتا ہے۔ کبھی ادھر کبھی اُدھر۔ کبھی کبھی نصاری کا غلام صلیب کا حامی بھی بن جاتا ہے۔ ۱۰۴۔ کفر کا لباس پہن کر دین کو بیچتا ہے اور اپنے مولا کی ناراضی میں کفار کو خوش کرنا چاہتا ہے۔ ا وہ کلام بے اثر نہیں ہوتا یقال كَبَا وَ أَكْبَى الزَّنْدُ أَى لَمْ يُوِرُ۔ (شمس) أَوْ كَالضَّب ۔ (شمس)