البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 411 of 630

البلاغ — Page 411

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۱۱ البلاغ ۔ فریاد درد متوجہ ہوئے جواب چھپ بھی گیا ہے۔ جس کو وہ باعث موت پورا نہ کر سکے ۔ مگر اس کتاب کے تلف کرانے کے لئے کوئی میموریل نہ بھیجا اور اشارہ تک زبان پر نہ لائے۔ اس کا کیا سبب ہے؟ کیا یہ سبب ہے کہ پولیٹیکل امور میں اس انجمن کو ان سے بھی زیادہ عقل اور فہم ہے یا ان کی اسلامی غیرت سید صاحب سے بڑھی ہوئی ہے ایسا ہی دوسرے اکابر اور غیرت مند مسلمان عرصہ ساٹھ سال تک دیسی یا دریوں کی طرف سے یہی سختی دیکھتے رہے مگر کوئی میموریل نہ بھیجا گیا وہ سب کے سب اس انجمن سے مرتبہ عقل یا دینی غیرت میں کم تھے؟ پس کیا اس سے نتیجہ نہیں نکلتا کہ یہ انجمن کی رائے ایک ایسی نرالی رائے ہے۔ جو کبھی اسلام کے مدبروں اور غیرت مندوں اور پولیٹیکل اسرار کے ماہروں نے اس پر قدم نہیں مارا مگر رد لکھنے کے امر پر سب کا اتفاق رہا؟ اور ابتدا میں اس انجمن نے بھی بطور دکھانے کے دانتوں کے اسی اصول کو مستحسن سمجھ کر اس پر کار بند رہنے کا وعدہ بھی دیا تھا اور اس کو اپنے تھی کہ وہ خدا سے اگر خوف کرے گا تو میعاد کے اندر نہیں مرے گا۔ سو اس نے صریح اور کھلے کھلے طور پر آثار خوف دکھلائے اس لئے میعاد کے اندر نہ مرا مگر پھر بچی گواہی کو پوشیدہ رکھ کر ہمارے الہام کے مطابق آخری اشتہار سے چھ مہینے بعد مر گیا۔ اب دیکھو نظم کی نسبت پیشگوئی بھی کیسی صفائی سے پوری ہوگئی تھی۔ ظاہر ہے کہ میں اور آتھم دونوں قضاء و قدر کے نیچے تھے۔ پس اس میں کیا بھید تھا کہ مدت ہوئی کہ میری پیشگوئی کے بعد آکتم مر گیا اور میں اب تک بفضلہ تعالیٰ زندہ ہوں۔ کیا یہ خدا کا وہ فعل نہیں ہے جو میرے الہام اور میری پیشگوئی کے بعد میری تائید کے لئے ظہور میں آیا۔ پھر ان لوگوں پر سخت تعجب ہے کہ مسلمانوں کی اولاد ہو کر ان خدائی قدرتوں کو نہ سمجھیں جن میں صریح تائید الہی کی چمک ہے۔ ترسم کہ بہ کعبہ چوں رہی اے اعرابی کیں ره که تو میروی به ترکستان ست منه