البلاغ — Page 410
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۱۰ البلاغ ۔ فریا د درد (۲۰) کی تدبیر یہی تھی جو انجمن حمایت اسلام لاہور کو اب سوجھی یعنی یہ کہ گورنمنٹ میں میموریل بھیج کر عیسائیوں کی کتابیں تلف کرائی جائیں تو آج تک کم سے کم ایک کروڑ میموریل اسلام کی طرف سے جانا چاہیے تھا کیونکہ بڑے مذہب برٹش انڈیا میں دو ہی ہیں۔ ہندو اور مسلمان مگر ہندوؤں کی طرف پادری صاحبوں کی التفات طبعا کم ہے لیکن اگر فرض بھی کر لیں کہ یہ چھ کروڑ کتاب جو لکھی گئی تو نصف اس کا ہندوؤں کے رد میں تھا تب بھی ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کے رد میں اب تک تین کروڑ کتاب تالیف ہوئی۔ اس لئے ایک کروڑ میموریل بھیجے جانا کچھ زیادہ نہ تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیوں باستثنائے انجمن حمایت اسلام لاہور کے کسی کو یہ بات نہ سوجھی کہ بذریعہ میموریل یہ تمام عیسائیوں کی کتابیں جواب تک بار بار چھپ رہی ہیں تلف کرائی جائیں۔ یہاں تک کہ سرسید احمد خاں صاحب بالقابہ کو بھی یہ خیال نہ آیا بلکہ سید صاحب مرحوم تو رسالہ امہات المومنین کے شائع ہونے کے وقت بھی جواب لکھنے کی طرف ہی ناراض ہوں گے۔ افسوس ان لوگوں کو سمجھ نہیں آتا کہ جو شخص اس قدر موذی طبع تھا کہ قادیاں میں آکر گالیاں دیتا رہا اس کی نسبت اگر خدا تعالیٰ نے اس کی درخواست کے بعد الہام فرمایا تو اس میں ہماری طرف سے کونسی زیادتی ہوئی ۔ اس نے بھی تو میری نسبت اشتہار دیا تھا یہ کیسی جہالت ہے کہ بار بار ہندوؤں کی ناراضگی کا نام لیا جاتا ہے اور خدا کے لئے کوئی خانہ خالی نہیں رکھا جاتا۔ اور ہمارا اور ان لوگوں کا خدا تعالیٰ کے سامنے مقدمہ ہے۔ جو مجھ پر اعتراض کرتے ہیں یہ مجھ پر نہیں بلکہ خدا تعالی پر کرتے ہیں کہ اس نے لیکھرام کو کیوں مارا اور کیوں ایسا کام کیا جس سے ہندو افروختہ ہوئے۔ اگر یہ معاملہ محل اعتراض ہے تو پھر ایڈیٹر پیسہ اخبار اور ابزرور کی قلم سے کوئی نبی اور رسول بیچ نہیں سکتا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایڈیٹر پیسہ اخبار نے آگھم کے نہ مرنے پر بھی اعتراض کیا تھا کہ وہ میعاد کے اندر نہیں مرا اور اب لیکھرام کی نسبت اعتراض کیا کہ وہ میعاد کے اندر کیوں مر گیا۔ پس اصل بات یہ ہے کہ حاسدانہ نکتہ چینی ہر ایک پہلو سے ہو سکتی ہے ۔ آتھم کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی تھی کیسی صاف طور پر اس کے ساتھ شرط موجود