آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 70

روحانی خزائن جلده آئینہ کمالات اسلام ا اور لقا کے مرتبہ کی کیفیت (۷۰) جب تک یہ حالت راسخ نہ ہو اور خدا تعالیٰ کی طرف بکلی جھک جانا ایک طبیعی امر نہ ٹھہر جائے تب تک مرتبہ بقا کا پیدا نہیں ہو سکتا بلکہ وہ مرتبہ صرف اسی وقت پیدا ہوگا کہ جب ہر یک اطاعت کا تصنع درمیان سے اٹھ جائے اور ایک طبعی روئیدگی کی طرح فرمانبرداری کی سرسبز اور لہراتی ہوئی شاخیں دل سے جوش مار کر نکلیں اور واقعی طور پر سب کچھ جو اپنا سمجھا جاتا ہے خدا تعالیٰ کا ہو جائے اور جیسے دوسرے لوگ ہوا پرستی میں لذت اٹھاتے ہیں اس شخص کی تمام کامل لذتیں پرستش اور یا دالہی میں ہوں ۔ اور بجائے نفسانی ارادوں کے خدا تعالیٰ کی مرضیات جگہ پکڑ لیں ۔ پھر جب یہ بقا کی حالت بخوبی استحکام پکڑ جائے اور سالک کے رگ وریشہ میں داخل ہو جائے اور اُس کا جزو وجود بن جائے اور ایک نور آسمان سے اترتا ہوا دکھائی دے جس کے نازل ہونے کے ساتھ ہی تمام پر دے دور ہو جائیں اور نہایت لطیف اور شیریں اور حلاوت سے ملی ہوئی ایک محبت دل میں پیدا ہو جو پہلے نہیں تھی اور ایک ایسی خنکی اور اطمینان اور سکینت اور سرور دل کو محسوس ہو کہ جیسے ایک نہایت پیارے دوست مدت کے بچھڑے ہوئے کی یکدفعہ ملنے اور بغل گیر ہونے سے محسوس ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کے روشن اور لذیذ اور مبارک اور سرور بخش اور فصیح اور معطر اور مبشرانہ کلمات اُٹھتے اور بیٹھتے اور سوتے اور جاگتے اس طرح پر نازل ہونے شروع ہو جائیں کہ جیسے ایک ٹھنڈی اور دلکش اور پر خوشبو ہوا ایک گلزار پر گذر کر آتی اور صبح کے وقت چلنی شروع ہوتی اور اپنے ساتھ ایک شکر اور سرور لاتی ہے۔ اور انسان خدا تعالیٰ کی طرف ایسا کھینچا جائے کہ بغیر اُس کی محبت اور عاشقانہ تصور کے جی نہ سکے اور نہ یہ کہ مال اور جان اور عزت اور اولا داور جو کچھ اس کا ہے قربان کرنے کیلئے طیار ہو بلکہ اپنے دل میں قربان کر ہی