آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 69

روحانی خزائن جلده ۶۹ آئینہ کمالات اسلام و بال نازل ہو جاتا ہے اور کسی کو رحمت کی نظر سے دیکھتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک مورد ۲۹ رحم ہو جاتا ہے اور جیسا کہ خدا تعالیٰ کا محسن دائمی طور پر نتیجہ مقصودہ کو بلاتخلف پیدا کرتا ہے ایسا ہی اُس کا حسن بھی اس تموج اور مد کی حالت میں خطا نہیں جاتا۔ اور جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں ان اقتداری خوارق کی اصل وجہ یہی ہوتی ہے کہ یہ شخص شدت اتصال کی وجہ سے خدائے عز و جل کے رنگ سے خالی طور پر رنگین ہوجاتا ہے اور تجلیات الہیہ اس پر دائی قبضہ کر لیتے ہیں اور محبوب حقیقی مجب حائلہ کو درمیان سے اٹھا کر نہایت شدید قرب کی وجہ سے ہم آغوش ہو جاتا ہے اور جیسا کہ وہ خود مبارک ہے ایسا ہی اس کے اقوال وافعال و حرکات اور سکنات اور خوراک اور پوشاک اور مکان اور زمان اور اس کے جمیع لوازم میں برکت رکھ دیتا ہے تب ہر یک چیز جو اس سے مس کرتی ہے بغیر اس کے جو یہ دعا کرے برکت پاتی ہے۔ اس کے مکان میں برکت ہوتی ہے اس کے دروازوں کے آستانے برکت سے بھرے ہوتے ہیں اس کے گھر کے دروازوں پر برکت برستی ہے جو ہر دم اس کو مشاہدہ ہوتی ہے اور اس کی خوشبو اس کو آتی ہے جب یہ سفر کرے تو خدا تعالیٰ معہ اپنی تمام برکتوں کے اس کے ساتھ ہوتا ہے اور جب یہ گھر میں آوے تو ایک دریا نور کا ساتھ لاتا ہے غرض یہ عجیب انسان ہوتا ہے جس کی کنہ بجز خدا تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔ اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ فنافی اللہ کے درجہ کی تحقیق کے بعد یعنی اس درجہ کے بعد جو أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلهِ کے مفہوم کو لازم ہے جس کو صوفی فنا کے نام سے اور قرآن کریم استقامت کے اسم سے موسوم کرتا ہے درجہ بقا اور لقا کا بلا توقف پیچھے آنے والا ہے یعنی جب کہ انسان خلق اور ہوا اور ارادہ سے بکلی خالی ہو کر فنا کی حالت کو پہنچ گیا تو اس حالت کے راسخ ہونے کے ساتھ ہی بقا کا درجہ شروع ہو جاتا ہے مگر بقا اور لقا کے مرتبہ کی کیفیت