آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 701
کسب اور جدوجہد صرف اس درجہ تک ہے ۷۱ اسلم وجھہ کے درجہ کو صوفی فنا اور قرآن استقامت کے اسم سے موسوم کرتا ہے ۶۹ سالک کا سلوک صرف فنا کی حد تک ہے ۷۱ اس درجہ کے بعد بقا اور لقا کا درجہ بلاتوقف ہے ۷۱ بقا کے مرتبہ کے پیدا ہونے کا وقت ۶۳، ۷۰ بقا کے مرتبہ پر روح القدس کا کامل طور پر عطا کیا جانا ۲۰۶ح ح اس مرتبہ پر شیطان کا کالعدم ہوجانا ۸۲ بقا اور لقا کسبی نہیں بلکہ وہبی ہیں ۷۱ بعض اہلِ تصوف کا لقاء کے مرتبہ پر پہنچنے والوں کا نام اطفال اللہ رکھنا ۶۴ لقاکا مرتبہ کب سالک کیلئے کامل طور پر متحقق ہوتا ہے ۶۴ لقا کے درجہ کی کیفیت اور اس درجہ پر سالک کی حالت ۷۰ لقا کے مرتبہ پر شیطان کا کالعدم ہوجانا ۸۲ اس مرتبہ پرروح القدس کسی حال میں جدا نہیں ہوتا ۷۲ اس مقام پر پہنچنے والوں کا نام بعض اہلِ تصوف نے اطفال اللہ رکھا ہے ۶۴ اللہ اور مرتبہ لقاء پر فائز شخص کے اقتداری کاموں میں فرق ۶۷ خدا اور لقاء کے مرتبہ پر فائز شخص کے کُن میں مشابہت ۶۸ اس درجہ میں بعض ایسے امور کا صادر ہونا جو بشریت کی طاقتوں سے بڑھے ہوئے الٰہی طاقت اندر رکھتے ہیں ۶۵،۶۸ لقاء کے مرتبہ پر اہل اللہ سے اقتداری نشانات کے ظہور کی وجہ ۷۲ لقاء کے مقام پر بعض سالکین کا لغزش کھا کر شہودی پیوند کو وجودی پیوند کے رنگ میں سمجھنا ۶۴ سالک کو اپنے ابتدائی اور درمیانی حالات میں تمام امیدیں ثواب کی مخالفانہ جذبات سے پیدا ہوتی ہیں ۸۴ح سالک پر ہونے والے خدا کے انعامات ۲۲۷ وہ مقام جہاں سالک انبیاء کے انعامات ظلی طور پا لیتا ہے ۲۳۷ عارفوں کی علامات ۱،۲ عارفوں پر ہونے والے انعامات الٰہیہ ۲،۳۱ عارف پر کشفی رنگ میں معاد کی خبروں کا کھلنا ۱۵۲ عارف کشفی مشاہدات سے روح القدس اور شیطان دیکھ کوسکتاہے ۸۸ ایمان کے درجہ سے عرفان کے مرتبہ پر ترقی ۲۰۰ح،۲۴۳ح عرفان کے مقام پر پہنچنے کا طریق ۲۵۳ح برے ارادوں پر غالب آنے کے لئے ایمان کے ساتھ عرفان کی آمیزش ضرورری ہے ۳۸ اعمالِ صالحہ کا محرک معرفت ہے ۱۸۸ یقینی معرفت حاصل کرنے کا زینہ ۲۵۲ح معرفت الٰہی اور معاد میں مطلوب امر ۲۴۲ح علم و معرفت حقیقت اسلامیہ کے حصول کا ذریعہ ہے ۱۷۸ معرفت تامہ کی کیفیت ۱۸۸ کرامت کیا چیز ہے؟ ۲۴۵ اولیاء کی اعلیٰ درجہ کی کرامت ۱۷۸ ولایت کی حقیقت ۲۴۲ اولیاء کی اعلیٰ درجہ کی کرامت ۱۷۸ ولی کی توجہ سے خوارق کا پیدا ہونا ۵۸۸ح ولایت ساری کی ساری دعاؤں کی قبولیت میں ہے ۲۴۲،۳۹۹ طیبین کی ارواح میں وحدت کا سِرّ ۳۷۶ اولیاء انبیاء کے جوہر اور طبیعت میں شریک ہیں ۳۷۵ اول فضیلت اور کمال کسی ولی کا یہ ہے کہ علم قرآن اسے عطا کیا جائے ۳۶۳ اکثر شدائد اور مصائب کے نزول کے وقت اولیاء پر کلام الٰہی نازل ہوتا ہے ۲۳۹ صدہا اولیاء کا الہام سے گواہی دینا کہ چودھویں صدی کا مجدد مسیح موعود ہو گا ۳۴۰ اولیاء کا مواضع متفرقہ میں بصور متعددہ نظر آنا ۱۲۲ اس زمانہ کے فقراء کی حالت ۲۶۶ح،۳۶۰،۳۷۰ فقراء کی علماء سے بھی بدتر حالت ہے ۴۸،۴۹