آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 676
۔تو نے اپنی مہربانی سے میری وہ مرادیں پوری کر دیں اور مہربانی فرما کر تو میرے گھر تشریف لایا۔مجھے عشق ووفا کی کچھ بھی خبر نہ تھی۔تو نے ہی خود محبت کی یہ دولت میرے دامن میں ڈال دی۔اس سیاہ مٹی کو تو نے خود اکسیر بنا دیا وہ صرف تیرا ہی جمال ہے جو مجھے اچھا لگا۔یہ میرے دل کی صفائی زُہد اور کثرت عبادت کی وجہ سے نہیں بلکہ تو نے مجھے آپ اپنی مہربانیوں سے روشن کر دیا ہے۔میں ایک مُشت خاک ہوں جس پر تیرے سینکڑوں احسان ہیں تیری مہربانیوں سے میرا جسم وجان زیر بار ہے۔دونوں جہان کا ترک کرنا آسان ہے اگر تیری رضا مل جائے اے میری پناہ، اے میرے حصار، اے میرے دارالامان۔فصل بہار اور پھولوں کا موسم میرے لئے بیکار ہیں کیونکہ میں تو ہر وقت تیرے چہرے کے خیال کی وجہ سے ایک چمن میں ہوں۔مجھے کسی اور استاد کی ضرورت کیوں ہو۔میں تو اپنے خدا سے تربیت حاصل کئے ہوئے ہوں۔اس کی دائمی عنایت اس قدر میرے قریب ہو گئی کہ دوست کی آواز میری ہر گلی کوچہ سے آنے لگی۔اے رب! مجھے ہر قدم پر مضبوط رکھ اور ایسا کوئی دن نہ آئے کہ میں تیرا عہد توڑوں۔اگر تیرے کوچہ میں عاشقوں کے سر اتارے جائیں تو سب سے پہلے جو عشق کا دعویٰ کرے گا وہ میں ہوں گا