آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 675
۔دین کے معاملہ میں مَیں سارے جہان سے بھی نہیں ڈرتا کہ مجھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایمان کا رنگ ہے۔دنیا سے قطع تعلق کرنا نہایت آسان ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن واحسان کو یاد کر کے۔اُس کی راہ میں میرا ہر ذرّہ قربان ہے کیونکہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مخفی حسن دیکھ لیا ہے۔میں اور کسی استاد کا نام نہیں جانتا میں تو صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مدرسہ کا پڑھا ہوا ہوں۔اور کسی محبوب سے مجھے واسطہ نہیں کہ میں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نازو ادا کا مقتول ہوں۔مجھے تو اسی آنکھ کی نظر مہر درکار ہے۔میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے باغ کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا۔میرے زخمی دل کو میرے پہلو میں تلاش نہ کرو کہ اسے تو ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے باندھ دیا ہے۔میں طائرانِ ُقدس میں سے وہ اعلیٰ پرندہ ہوں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے باغ میں بسیرا رکھتا ہے۔تو نے عشق کی وجہ سے ہماری جان کو روشن کر دیا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تجھ پر میری جان فدا ہو۔اگر اس راہ میں سو جان سے قربان ہو جاؤں تو بھی افسوس رہے گا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے شایاں نہیں۔اس جوان کو کس قدر رعب دیا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے میدان میں کوئی بھی (مقابلہ پر) نہیں آتا۔اے نادان اور گمراہ دشمن ہوشیار ہو جا۔اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کاٹنے والی تلوار سے ڈر۔خدا کے اس راستہ کو جسے لوگوں نے بھلا دیا ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آل اور انصار میں ڈھونڈ۔خبردار ہو جا! اے وہ شخص جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان نیز محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چمکتے ہوئے نور کا منکر ہے۔اگرچہ کرامت اب مفقود ہے مگر تو آ اور اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں میں دیکھ لے صفحہ ۶۵۲۔اے عزیزو ! دین متین کی مدد ایسا عظیم الشان کام ہے کہ انسان اسے سو زہد کے بدلے میں بھی حاصل نہیں کر سکتا صفحہ ۶۵۳۔جب تک کسی اللہ والے کا دل نہیں کڑھتا خدا کسی قوم کو ذلیل نہیں کرتا صفحہ ۶۵۸۔اے میرے محسن دوست میری جان تجھ پر قربان ہے تو نے مجھ سے کون سا فرق کیا ہے کہ میں تجھ سے کروں۔ہر مراد اور مدعا جو میں نے غیب سے طلب کیااور ہر خواہش جو میرے دل میں تھی