آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 658
روحانی خزائن جلد ۵ آئینہ کمالات اسلام میرا کام نہیں یا میرا اختیار نہیں اور ساتھ ہی یہ کہلا بھیجا کہ ایک سودائی پھرتا ہے اس کا اثر میرے دل پر پڑ گیا اور میں بھول گیا اور اب وہی چیز دینے کو تیار ہوں۔ اس کی میں نے یہ تعبیر کی کہ شیخ صاحب پر یہ ندامت آنے والی ہے اور انجام کار وہ نادم ہوں گے اور ابھی کسی دوسرے آدمی کا ان کے دل پر اثر ہے۔ پھر میں نے توجہ کی تو مجھے یہ الہام ہوا:۔ انا نرى تقلب وجهك في السماء نقلب في السماء ما قلبت في الارض انا معك نرفعک درجات یعنے ہم آسمان پر دیکھ رہے ہیں کہ تیرا دل مہر علی کی خیر اندیشی سے بددعا کی طرف پھر گیا سو ہم بات کو اسی طرح آسمان پر پھیر دیں گے جس طرح تو زمین پر پھیرے گا۔ ہم تیرے ساتھ ہیں تیرے درجات بڑھائیں گے۔ لہذا یہ اشتہار شیخ صاحب کی خدمت میں رجسٹری کرا کر بھیجتا ہوں کہ اگر وہ ایک ہفتہ کے عرصہ میں اپنے خلاف واقعہ فتنہ اندازی سے معافی چاہنے کی غرض سے ایک خط بہ نیت چھپوانے کے نہ بھیج دیں تو پھر آسمان پر میرا اور ان کا مقدمہ دائر ہوگا اور میں اپنی دعاؤں کو جوان کی عمر اور بحالی عزت اور آرام کیلئے تھیں واپس لے لوں گا یہ مجھے اللہ جل شانہ کی طرف سے بتفریح بشارت مل گئی ہے پس اگر شیخ صاحب نے اپنے افتراؤں کی نسبت میری معرفت معافی کا مضمون شائع نہ کرایا تو پھر میرے صدق اور راستی کی یہ نشانی ہے کہ میری بددعا کا اثر ان پر ظاہر ہوگا جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھ کو وعدہ دیا ہے۔ ابھی میں اس کی کوئی تاریخ بیان نہیں کر سکتا کیونکہ ابھی تک خدا تعالیٰ نے کوئی تاریخ میرے پر کھولی نہیں اور اگر میری بددعا کا کچھ بھی اثر نہ ہوا تو بلا شبہ میں اسی طرح کا ذب اور مفتری ہوں جو شیخ صاحب نے مجھ کو سمجھ لیا۔ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے مصیبت سے پہلے بھی شیخ صاحب کو خبر دی تھی اور مصیبت کے بعد بھی۔ اور اگر میں جھوٹا ہوں تو شیخ صاحب میری بد دعا سے صاف بچ جائیں گے اور یہی میرے کاذب ہونے کی کافی نشانی ہوگی۔ اگر یہ بات صرف میری ذات تک محدود ہوتی تو میں صبر کرتا۔ لیکن اس کا دین پر اثر ہے اور عوام میں ضلالت پھیلتی ہے اس لئے میں نے محض حمایت دین کی غرض سے دعا کی اور خدا تعالیٰ نے میری دعا منظور فرمائی۔ دنیا داروں کو اپنی دنیا کا تکبر ہوتا ہےاور فقیروں میں کبریائی تکبر اپنے نف پر بھروسہ کر کے پیدا ہوتا ہے اور کبریائی خدا تعالیٰ پر بھروسہ کر کے پیدا ہوتی ہے۔ پس میرے صادق اور کاذب ہونے کیلئے یہ بھی ایک نشانی ہے۔ میرا یہ دعوی ہے کہ شیخ صاحب کی نجات صرف میری ہی دعا سے ہوئی تھی جیسا کہ میں نے آگ پر پانی ڈالا تھا۔ اگر میں اس دعوی میں صادق نہیں ہوں تو میری ذلت ظاہر ہو جاوے گی۔ والسلام علی من اتبع الهدی راقم خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپورہ ( مطبوعہ ریاض ہند قادیان)