آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 657 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 657

آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صاحب کی طرف خط بھیجا گیا اور وہی خط مانگا گیا تھایا اس کا مضمون طلب کیا گیا تھا۔ شیخ صاحب نے اگر در حقیقت ایسا ہی بیان کیا ہے تو ان کے افترا کا جواب کیا دیا جائے ناظرین اس بارے میں میرے خطوط ان سے طلب کریں اور ان کو باہم ملا کر غور سے پڑھیں یا اگر شیخ صاحب میں مادہ نہم کا ہوتا تو پہلی ہی پیشگوئی کے خط سے میرا بریت کا خبر دینا سمجھ سکتے تھے کیونکہ اس سے یہی یہ بداہت سمجھا جاسکتا تھا کہ اس عاجز کے ذریعہ سے ہی ان کی بندخلاص ہوگی وجہ یہ کہ ان کو اطلاع دی گئی تھی کہ میں نے ہی پانی ڈال کر آگ کو بجھایا۔ کیا شیخ صاحب کو یاد نہیں کہ ہم قام اور ہیا نہ جب وہ میرے مرکان پر دعوت کھانے آئے تھے تو انہوں نے اس خط کو یاد کر کے رونا شروع کر دیا تھا اور شاید روٹی پر بھی بعض قطرے آنسوؤں کے پڑے ہوں۔ پھر وہ آگ پر پانی ڈالنا کیوں یاد نہ رہا۔ اور اگر میں نے رہائی کی خبر شائع نہیں کی تھی تو پھر وہ صد ما آدمیوں میں قبل ازربائی مشہور کیونکر ہوگئی تھی اور کیوں آپ کے بعض رشتہ دار جلدی کر کے اس خبر کے صدق پر اعتراض کرتے تھے جواب تک زندہ موجود ہیں اور پھر آپ نے کیوں میرے خط کا یہ خلاصہ مجھ کوتحریر کیا کہ گویا میں نے خط میں صرف اتناہی لکھا تا کہ فضل ہو جائے گا یہ کیسی نا خدا ترسی ہے کہ مجالس میں افترا کی تہمت لگا کر دل کو دکھایا جائے۔ خیر اب ہم بطریق تنزل ایک آسان فیصلہ اپنے صدق اور کذب کے بارے میں ذیل میں لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے: ۔ فیصلہ آج رات میں نے جو ۲۵ فروری ۱۸۹۳ء کی رات تھی ۔ شیخ صاحب کی ان باتوں سے سخت دردمند ہو کر آسمانی فیصلہ کیلئے دعا کی ۔ خواب میں مجھ کو دکھلایا گیا کہ ایک دوکاندار کی طرف میں نے کسی قدر قیمت بھیجی تھی کہ وہ ایک عمدہ اور خوشبودار چیز بھیج دے اس نے قیمت رکھ کر ایک بد بودار چیز بھیج دی وہ چیز دیکھ کر مجھے غصہ آیا اور میں نے کہا کہ جاؤ دوکاندار کو کہو کہ وہی چیز دے ورنہ میں اس دعا کی اس پر نالش کروں گا اور پھر عدالت سے کم سے کم چھ ماہ کی اس کو سزا ملے گی اور امید تو زیادہ کی ہے۔ تب دوکاندار نے شاید یہ کہلا بھیجا کہ یہ ا مناسب ہے کہ ناظرین ان قریب قریب تاریخوں کے تمام میرے خطوط کوشیخ صاحب سے لیکر پڑھیں میرے کسی خط کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ شیخ صاحب کوئی بات خلاف واقعہ لکھیں بلکہ ان کو اپنے خط سابق کے مضمون سے اطلاع دی گئی تھی اور امید تھی کہ یاد دلانے سے وہ مضمون انہیں یاد آ جائے گا۔ اس بناء پر ان سے یہ درخواست کی گئی تھی کہ ہمارے خط کا یہ خلاصہ ہے اور اس کی ہم آپ سے تصدیق چاہتے ہیں مگر افسوس کہ شیخ صاحب نے میرے خط کو تو تحکم کی راہ سے دبا لیا اور مجھ پر یہ افترا کیا کہ گویا میں نے ان سے جھوٹ کہلوانا چاہا۔ خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں نے تو صرف اپنے خط کے مضمون کی تصدیق کرانی چاہی تھی۔ اگر میں سچ پر نہیں تو شیخ صاحب میر امتنازعہ فیہ خط پیش کریں جس کے پہنچنے کا ان کو اقرار ہے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ یہ بھی اقرار ہے کہ اس میں لکھا تھا کہ فضل ہو جائے گا۔ منہ آپ کے رشتہ دار شاید ہمشیرہ زاده شیخ میراں بخش ساکن دسوہہ نے بمقام امرتسر اپنی دوکان پر رو بر وشیخ سندھی خان ساکن خانپور میرے ملازم شیخ حامد علی سے نومیدی رہائی کی حالت میں تکرار کی تھی کہ مرزا غلام احمد تو کہتے تھے کہ شیخ صاحب بری ہو جائیں گے اور اب وہ پھانسی ملنے لگے ہیں۔ حامد علی کا بیان ہے کہ میں نے کہا تھا کہ انجام دیکھنے کے بعد اعتراض کرتا۔ منہ