آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 39

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۹ آئینہ کمالات اسلام ہیں کہ وہ بجز موٹے الفاظ اور سرسری معنوں کے اور کوئی بار یک حقیقت اپنے اندر نہیں (۳۹) رکھتا اور کلام الہی کے نکات اور اسرار اور معانی کو اس حد تک ختم کر بیٹھے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بقدر ضرورت وقت و بلحاظ موجودہ استعدادات کے فرمائے تھے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ تمام فرمودہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باستیفا ضبط میں بھی نہیں آیا اور نہ جیسا کہ چاہئے محفوظ رہا۔ مگر باوجود ان سب باتوں کے اسرار جدیدہ قرآنیہ کے دریافت کرنے سے بکلی فارغ اور لا پروا ہیں ۔ یادر ہے کہ اسرار جدیدہ سے ہمارا یہ مطلب نہیں کہ ایسی باتیں قرآن کریم سے روز بروز نکل سکتی ہیں جو اس کی مقررہ مصرحہ شریعت کے مخالف ہوں بلکہ اسرار اور نکات اور دقائق سے وہ امور مراد ہیں جو شریعت کی تمام باتوں کو مسلم رکھ کر ان کی پوری پوری شکل کو ظاہر کرتے ہیں اور ان کی حقیقت کا ملہ کو بمنصہ ظہور لاتے ہیں۔ یہاں تک کہ منقول کو معقول کر کے دکھلا دیتے ہیں۔ سو انہیں اسرار کی اس معقولیت کے زمانہ میں ضرورت تھی ۔ جہاں تک نظر اٹھا کر دیکھو یہی سنت اللہ پاؤ گے کہ ہمیشہ خدا تعالیٰ زمانہ کی ضرورتوں کے موافق اپنے دین کی مدد کرتا رہا ہے۔ اور جس قسم کی روشنی کے دیکھنے کے لئے زمانہ کی حالت نے بالطبع خواہش کی وہی روشنی اپنے کلام اور کام میں اپنے کسی برگزیدہ کی معرفت دکھلاتا رہا ہے تا اس بات کا ثبوت دے کہ اس کا کلام اور کام ناقص نہیں اور نہ کمزور اور ضعیف ہے۔ حضرت موسیٰ کے زمانہ میں سانپوں کے مقابلہ پر سانپ کی ضرورت پڑی اور حضرت مسیح کے مقابل پر طبیبوں اور افسوں خوانوں کے مقابل پر روحانی طبابت کے دکھلانے کی حاجتیں پیش آئیں۔ سوخدائے تعالیٰ نے زمانہ کے تقاضا کے موافق اپنے نبیوں کو مدددی اور ہمارے سید و مقتداء ختم المرسلین کے زمانہ کی ضرورتیں در حقیقت کسی ایک نوع