آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 38
روحانی خزائن جلده ۳۸ آئینہ کمالات اسلام (۳۸) ظہور پذیر ہورہی ہیں۔ ہاں یہ اعتراضات غفلت کی حالت میں سخت خوف کی جگہ ہیں اور ایک ضلالت کا طوفان برپا کرنے والے معلوم ہوتے ہیں ۔ اور مجر داسلامی عقائد کا یا درکھنایا پرانی کتابوں کو دیکھنا ان سے محفوظ رہنے کے لئے کافی نہیں اور حقیقت شناس لوگ سمجھتے ہیں کہ اس زمانہ کے ان اعتراضات سے ایک بھاری ابتلا مسلمانوں کیلئے پیش آ گیا ہے اور اگر مسلمان لوگ اس بلا کو تغافل کی نظر سے دیکھیں گے تو رفتہ رفتہ ان میں اور ان کی ذریت میں یہ زہرناک مادہ اثر کرے گا یہاں تک کہ ہلاکت تک پہنچائے گا۔ وہ ایمان جو برے ارادوں اور لغزشوں پر غالب آتا ہے بجز عرفان کی آمیزش کے کبھی ظہور پذیر نہیں ہوسکتا پس ایسے لوگ کیونکر خطرات لغزش سے محفوظ رہ سکتے ہیں جو قرآن کریم کی خوبیوں سے ناواقف اور بیرونی اعتراضات کے دفع کرنے سے عاجز اور کلام الہی کے حقائق اور معارف عالیہ سے منکر ہیں بلکہ اس زمانہ میں ان کا وہ خشک ایمان سخت معرض خطر میں ہے اور کسی ادنی ابتلا کے محمل کے قابل نہیں ہے۔ خدائے تعالیٰ پر اسی شخص کا ایمان مستحکم ہوسکتا ہے جس کا اس کی کتاب پر ایمان مستحکم ہو اور اس کی کتاب پر تبھی ایمان مستحکم ہو سکتا ہے کہ جب بغیر حاجت منقولی معجزات کے کہ جو اب آنکھوں کے سامنے بھی موجود نہیں ہیں خود خدا تعالیٰ کا پاک کلام اعلیٰ درجہ کا معجزہ اور معارف و حقائق کا ایک نا پیدا کنار دریا نظر آوے۔ پس جولوگ ایک مکھی کی نسبت تو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اس میں بے شمار عجائبات قدرت قادر ایسے موجود ہیں کہ کوئی انسان خواہ وہ کیسا ہی فلاسفر اور حکیم ہو ان کی نظیر نہیں بنا سکتا اور ایک جو کی نسبت ان کو یہ اعتقاد ہے کہ اگر تمام دنیا کے حکیم قیامت کے دن تک اس کے عجائبات اور خواص مخفیہ کو سوچیں تب بھی یقینا نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے وہ تمام خواص دریافت کر لئے ہیں لیکن یہی لوگ مسلمان کہلا کر اور مسلمانوں کی ذریت کہلا کر قرآن کریم کی نسبت یہ یقین رکھتے