آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 616
روحانی خزائن جلد ۵ ۶۱۴ آئینہ کمالات اسلام اور دوسرے مقدس نبی پہنچ چکے تھے اس تقریر کے ضمن میں مولوی صاحب موصوف نے بہت سے حقائق معارف قرآن کریم بیان فرمائے جن سے حاضرین پر بڑا اثر پڑا اور مولوی صاحب نے بڑی صفائی سے اس بات کا ثبوت دے دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام در حقیقت اس عالم سے رحلت فرما ہو گئے ہیں اور ان کے زندہ ہونے کا خیال عبث اور باطل اور سراسر مخالف نصوص بینه قرآن کریم و احادیث صحیحہ ہے اور ان کے نزول کی امید رکھنا طمع خام ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اگر چہ بہت سی حدیثوں میں نزول کی خبر دی گئی ہے مگر وہ نزول اور رنگ میں ہے یعنی تجوز اور استعارہ کے طور پر نزول ہے نہ حقیقی نزول ۔ کیونکہ حقیقی نزول تو نصوص صریحہ مینہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ سے مخالف پڑا ہوا ہے جس کی طرف قدم اٹھانا گویا خدا تعالیٰ کی خبر میں شک کرنا ہے مولوی صاحب کے وعظ کے بعد سید حامد شاہ صاحب سیالکوٹی نے ایک قصیدہ مدحیہ سنایا ۔ اس تقریر کے بعد حضرت اقدس مرزا صاحب کی مختصر تقریر تھی جس میں علماء حال کی چندان باتوں کا جواب دیا گیا جو اُن کے نزدیک بنیا د تکفیر ہیں اور اسی کے ساتھ اپنے مسیح موعود ہونے کا آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے ثبوت دیا گیا اور حاضرین کو اس پیشگوئی کے پورا ہو جانے سے اطلاع دی گئی جو پر چہ نور افشاں دہم مئی ۱۸۸۸ء میں شائع ہوئی تھی اور مختلف وقتوں میں حجت پوری کرنے کے لئے سمجھا دیا گیا کہ اس پیشگوئی کا پورا ہونا در حقیقت صداقت دعوئی پر ایک نشان ہے کیونکہ یہ پیشگوئی محض اس لئے ظاہر کی گئی ہے کہ جن صاحبوں کو شک ہے کہ حضرت مرزا صاحب منجانب اللہ ( نہیں ) ہیں ۔ ان کے لئے اس دعوی پر یہ ایک دلیل ہو جو