آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 611 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 611

۶۰۹ روحانی خزائن جلد ۵ آئینہ کمالات اسلام اور خدا تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ اس دین میں کوئی حرج کی بات نہیں رکھی گئی یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر مثلاً کسی تدبیر یا انتظام سے ایک کام جو در اصل جائز اور روا ہے سہل اور آسان ہو سکتا ہے تو وہی تدبیر اختیار کر لو کچھ مضائقہ نہیں۔ ان باتوں کا نام بدعت رکھنا ان اندھوں کا کام ہے جن کو نہ دین کی عقل دی گئی اور نہ دنیا کی۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں کسی دینی تعلیم کی جس پر تاریخ مقرر کرنے کیلئے ایک خاص باب منعقد کیا ہے جس کا یہ عنوان ہے مــن جـعـل لاهل العلم اياما معلوم یعنے علم کے طالبوں کے افادہ کیلئے خاص دنوں کو مقرر کرنا بعض صحابہ کی سنت ہے۔ اس ثبوت کیلئے امام موصف اپنی بیچ میں بی ایل سے ہی روایت کرتے ہیں کسان عبداللہ بذكر الناس فی کل خمیس یعنی عبداللہ نے اپنے وعظ کیلئے جمعرات کا دن مقرر کر رکھا تھا اور جمعرات میں ہی اس کے وعظ پر لوگ حاضر ہوتے تھے۔ یہ بھی یادر ہے کہ اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں تدبیر اور انتظام کیلئے ہمیں حکم فرمایا ہے اور ہمیں مامور کیا ہے کہ جو احسن تدبیر اور انتظام خدمت اسلام کیلئے ہم قرین مصلحت سمجھیں اور دشمن پر غالب ہونے کیلئے مفید خیال کریں وہی بجالا ویں جیسا کہ وہ عزاسمہ فرماتا ہے۔ وَاعِدُوا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُف من قوة یعنے دینی دشمنوں کیلئے ہر یک قسم کی طیاری جوکر سکتے ہوکر واور اعلاء کلمہ اسلام کیلئے جو قوت لگاسکتے ہو گا۔ اب دیکھو کہ یہ آیت کریمہ کس قدر بلند آواز سے ہدایت فرمارہی ہے کہ جو تد بیر یں خدمت اسلام کیلئے کارگر ہوں سب بجالاؤ اور تمام قوت اپنے فکر کی اپنے بازو کی اپنی مالی طاقت کی اپنے احسن انتظام کی اپنی تدبیر شائستہ کی اس راہ میں خرچ کرو تاتم فتح پاؤ ۔ اب نادان اور اندھے اور دشمن دین مولوی اس صرف قوت اور حکمت عملی کا نام بدعت رکھتے ہیں۔ اس وقت کے یہ لوگ عالم کہلاتے ہیں جن کو قرآن کریم کی ہی خبر نہیں انا لله و انا اليه راجعون اس آیت موصوفہ بالا پر غور کرنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ بر طبق حدیث نبوی کہ انما الاعمال بالنیات کوئی احسن انتظام اسلام کی خدمت کیلئے سوچنا بدعت اور ضلالت میں داخل نہیں ہے جیسے جیسے بوجہ تبدل زمانہ کے اسلام کوئی نئی صورتیں مشکلات کی پیش آتی ہیں پانے نئے طور پر ہم لوگوں پر مخالفوں کے حملے ہوتے ہیں ویسی ہی ہمیں نئی تدبیریں کرنی پڑتی ہیں پس اگر حالت موجودہ کے موافق ان حملوں کے روکنے کی کوئی تدبیر اور تدارک سوچیں تو وہ ایک تدبیر ہے بدعات سے اس کو کچھ تعلق نہیں اور ممکن ہے کہ باعث انقلاب زمانہ کے ہمیں بعض ایسی نئی مشکلات پیش آجائیں جو ہمارے سید و مولی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس رنگ اور طرز کی مشکلات پیش نہ آئی ہوں مثلاً ہم اس وقت کی لڑائیوں میں پہلی طرز کو جو مسنون ہے اختیار نہیں کر سکتے کیونکہ اس زمانہ میں طریق جنگ و جدل بالکل بدل گیا ہے اور پہلے ہتھیار بیکار ہو گئے اور نئے ہتھیار لڑائیوں کے پیدا ہوئے اب اگر ان ہتھیاروں کو پکڑنا اور اٹھانا اوران سے کام لینا ملوک اسلام بدعت سمجھیں اور میاں رحیم بخش جیسے مولوی کی بات پر کان دھر کے ان اسلحہ جدیدہ کا استعمال کرنا ضلالت اور معصیت خیال کریں اور یہ کہیں کہ یہ وہ طریق جنگ ہے کہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا اور نہ صحابہ اور تابعین نے تو فرمائیے کہ بجز اس کے کہ ایک ذلت کے ساتھ اپنی ٹوٹی پھوٹی سلطنتوں سے الگ کئے جائیں اور دشمن فتح یاب ہو جائے کوئی اور بھی اس کا نتیجہ ہوگا۔ پس ایسے مقامات تد بیر اور انتظام میں خواہ وہ مثلاً جنگ و جدل ظاہری ہو یا باطنی ۔ اور خواہ تلوار کی لڑائی ہو یا قلم کی ۔ ہماری ہدایت پانے کیلئے یہ آیت کریمہ موصوفہ بالا ل الانفال: ٦١