آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 610 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 610

روحانی خزائن جلد ۵ ۶۰۸ آئینہ کمالات اسلام د من قال لا اله الا اللہ خالصا من قلبه او نفسه اور مردود ٹھہرانے کی اپنے فتوی میں وجہ یہ ٹھہرائی کہ ایسا اشتہار کیوں شائع کیا اور لوگوں کو جلسہ پر بلانے کیلئے کیوں دعوت کی ۔ اے ناخدا ترس ذرا آنکھ کھول اور پڑھ کہ اس اشتہار ے دسمبر ۱۸۹۲ء کا کیا مضمون ہے کیا اپنی جماعت کو طلب علم اور حل مشکلات دین اور ہمدردی اسلام اور برادرانہ ملاقات کیلئے بلایا ہے یا اس میں کسی اور میلہ تماشا اور راگ اور سرود کا ذکر ہے۔ اسے اس زمانہ کے ننگ اسلام مولو یو تم اللہ جلّ شانہ سے کیوں نہیں ڈرتے کیا ایک دن مرنا نہیں یا ہر یک مواخذہ تم کو معاف ہے حق بات کو سن کر اور اللہ اور رسول کے فرمودہ کو دیکھ کر تمہیں یہ خیال تو نہیں آتا کہ اب اپنی ضد سے باز آجائیں بلکہ مقدمہ باز لوگوں کی طرح یہ خیال آتا ہے کہ آؤ کسی طرح باتوں کو بنا کر اس کا رد چھاپیں تا لوگ نہ کہیں کہ ہمارے مولوی صاحب کو کچھ جواب نہ آیا۔ اس قدر دلیری اور بددیانتی اور یہ بخل اور بغض کس عمر کیلئے ۔ آپ کو فتویٰ لکھنے کے وقت وہ حدیثیں یاد نہ رہیں جن میں علم دین کیلئے اور اپنے شبہات دور کرنے کیلئے اور اپنے دینی بھائیوں اور عزیزوں کو ملنے کیلئے سفر کر نے کو موجب ثواب کثیر واجر عظیم قرار دیا ہے بلکہ زیارت صالحین کیلئے سفر کرنا قدیم سے سنت سلف صالح چلی آئی ہے اور ایک حدیث میں ہے کہ جب قیامت کے دن ایک شخص اپنی بداعمالی کی وجہ سے سخت مواخذہ میں ہوگا تو اللہ جل شانہ اس سے پوچھے گا کہ فلاں صالح آدمی کی ملاقات کیلئے بھی تو گیا تھا تو وہ کہے گا بالارادہ تو بھی نہیں گیا مگر ایک دفعہ ایک راہ میں اس کی ملاقات ہوگئی تھی تب خدا تعالیٰ کہے گا کہ جا بہشت میں داخل ہو۔ میں نے اسی ملاقات کی وجہ سے تجھے بخش دیا۔ اب اے کو یہ نظر مولوی ذرہ نظر کر کہ یہ حدیث کس بات کی ترغیب دیتی ہے۔ اور اگر کسی کے دل میں یہ دھو کہ ہو کہ اس دینی جلسہ کیلئے ایک خاص تاریخ کیوں مقرر کی۔ ایسا فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ رضی اللہ عنہم سے کب ثابت ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بخاری اور مسلم کو دیکھو کہ اہل باد یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسائل کے دریافت کرنے کیلئے اپنی فرصت کے وقتوں میں آیا کرتے تھے اور بعض خاص خاص مہینوں میں ان کے گروہ فرصت پا کر حاضر خدمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوا کرتے تھے اور صحیح بخاری میں ابی جمرہ سے روایت ہے۔ قال ان وفد عبدالقیس اتوا النبي صلى الله عليه وسلم قالوا إنا نأ تيك من شقة بعيدة و لا نستطيع ان نأتيك الا في شهر | حرام بنے ایک گروہ قبیلہ عبد القیس کے پیغام لانے والوں کا جواپنی قوم کی طرف سے آئے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ ہم لوگ دور سے سفر کر کے آتے ہیں اور بجر حرام مہینوں کے ہم حاضر خدمت ہو نہیں سکتے اور ان کے قول کو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رو نہیں کیا اور قبول کیا پس اس حدیث سے بھی یہ مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ جو لوگ طلب علم یا دینی ملاقات کیلئے کسی اپنے مقتدا کی خدمت میں حاضر ہونا چا ہیں وہ اپنی گنجائش فرصت کے لحاظ سے ایک تاریخ مقرر کر سکتے ہیں جس تاریخ میں وہ بآسانی اور بلا حرج حاضر ہوسکیں اور یہی صورت ۲۷ دسمبر کی تاریخ میں ملحوظ ہے کیونکہ وہ دن تعطیلوں کے ہوتے ہیں اور ملازمت پیشہ لوگ یہ سہولت ان دنوں میں آسکتے ہیں۔