آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 600
۵۹۸ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ ۵۹۸ حضرت موسیٰ کی نسبت یہ کہے کہ نعوذ باللہ وہ مال حرام کھانے والا تھا۔ یا حضرت مسیح کی نسبت یہ زبان پر لاوے کہ وہ طوائف کے گند و مال کو اپنے کام میں لایا۔ یا حضرت ابراہیم کی نسبت یہ تحریر شائع کرے کہ مجھے جس قدر ان پر بدگمانی ہے اس کی وجہ ان کی دروغ گوئی ہے تو ایسے خبیث کی نسبت اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اس کی فطرت ان پاک لوگوں کی فطرت سے مغائر پڑی ہوئی ہے اور شیطان کی فطرت کے موافق اس پلید کا مادہ اور خمیر ہے۔ سو حضرت بٹالوی صاحب یا درکھیں کہ جس قدر آپ اس عاجز کی نسبت باعث اپنی نادانی کے دروغ گوئی کے الزام لگاتے ہیں وہ اسی قسم کے اعتراض ہیں جو پہلے اس سے نابکار لوگوں نے انبیاء علیہم السلام پر کئے ہیں ۔ مگر آپ پر تکبر اور غرور اور خود پسندی کا اعتراض ہے جو اسی معلم الملکوت کا خاصہ ہے جو آپ کا قرین دائمی ہے۔ اگر کوئی کذب حقیقت میں ہم سے ظہور میں آیا ہے تو ہم اس کی سزا پائیں گے ۔ اور اگر خلیل اللہ کے کلمات کی طرح ہمارا کوئی کلمہ کسی نادان کی نظر میں بصورت دروغ معلوم ہو تو یہ اس کی نادانی ہوگی جو ایک دن ضرور اس کو رسوا کرے گی ۔ خدا تعالیٰ ایسے لوگوں سے پناہ میں رکھے کہ جو ابلیس کی چادر پہن کر اپنی نفسانی پندار سے بچو من دیگرے نیست کہتے پھریں اور اپنی کو ر باطنی سے دوسروں کی نکتہ چینی کریں۔ میں بیچ بیچ کہتا ہوں کہ قیامت کے دن شرک کے بعد تکبر جیسی اور کوئی بلا نہیں۔ یہ ایک ایسی بلا ہے جو دونوں جہان میں انسان کو رسوا کرتی ہے۔ خدا تعالیٰ کا رحم ہر یک موجد کا تدارک کرتا ہے مگر متکبر کا نہیں۔ شیطان بھی موحد ہونے کا دم مارتا تھا مگر چونکہ اس کے سر میں تکبر تھا اور آدم کو جو خدا تعالیٰ کی نظر میں پیارا تھا۔ جب اس نے توہین کی نظر سے دیکھا اور اس کی نکتہ چینی کی اس لئے وہ مارا گیا اور طوق لعنت اس کی گردن میں ڈالا گیا۔ سو پہلا گناہ جس سے ایک شخص ہمیشہ کیلئے ہلاک ہوا تکبر ہی تھا۔ اب میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو بد کار مفتری کو بے سزا نہیں چھوڑے گا کہ خدا تعالیٰ نے جیسے مجھے مسیح ابن مریم قرار دیا ایسا ہی آدم بھی قرار دیا اور فرمایا کہ اردت ان اسـتـخـلـف فخلقت آدم یعنے میں نے ارادہ کیا کہ دنیا میں اپنا خلیفہ مقرر کروں سو میں نے آدم کو پیدا کیا یعنے اس عاجز کو ۔ سو جبکہ میں آدم ٹھہرا تو میرے لئے ایک نکتہ چین بھی چاہیے تھا۔ جو اول لوگوں کی نظر میں ملکوت میں داخل ہو اور پھر الی یوم الدین کا جامہ پہنے ۔ سواب معلوم ہوا کہ وہ آپ ہی ہیں ۔ اور پھر میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ فقرہ جو میں اوپرلکھ آیا ہوں یہ اللہ جل شانہ کا کلام ہے۔ اور اگر یہ اللہ جل شانہ کا کلام نہیں تو میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ایک رات بھی مجھ کو مہلت نہ دے اور میرے پر وہ سزا نازل کرے جو کسی پر نہ کی ہو۔ اے میرے خدا۔ اے میرے بادی ۔ رہنما۔ اگر یہ تیرا کلام نہیں ۔ اگر تو نے ہی مجھے خلیفہ مقرر نہیں کیا۔ اگر تو نے ہی میرا نام عیسی نہیں رکھا اور تو نے ہی میرا نام آدم نہیں رکھا تو مجھے