آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 599 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 599

۵۹۷ روحانی خزائن جلد ۵ ۵۹۷ آئینہ کمالات اسلام شیخ محمد حسین بٹالوی کے اس پرچہ کا جواب جو انہوں نے ۹ جنوری ۱۸۹۳ء کو لکھ کر اپنے پر چہ نمبر جلد ۱۵ میں شائع کیا ۱ خدا چون به بندد دو چشم کے نه بیند و گر مہر تابد بے شیخ صاحب بٹالوی نے پھر اس پر چہ کے صفحہ ۲۲ میں اس عاجز پر یہی الزام لگایا ہے کہ دروغ سے آپکی کوئی تحریر خالی نہیں۔ سچ ہے انسان جس وقت باعث تکبر اور حسد کے پردوں کے نابینا ہو جاتا ہے تو اس وقت اسکو ظلمت ہی ظلمت نظر آتی ہے۔ مگر یاد رہے کہ یہ الزام کچھ نئے نہیں خدا تعالیٰ کے نیک بندے جس قدر دنیا میں آئے بدطینتوں نے ان پر یہی الزام لگائے کہ یہ جھوٹے ہیں کذاب ہیں مفتری ہیں شہوت پرست ہیں مال خور ہیں ۔ لیکن جب دنیا ان دونوں گروہ میں فیصلہ نہ کر سکے تب آخر اس نے جس کی نظر ولوں کے پاتال تک پہنچتی ہے اپنے آسمانی فیصلہ سے روز روشن کی طرح دکھلا دیا کہ کون کذاب اور کون صادق ہے۔سواس وقت میں کچھ ضرور نہیں سمجھتا کہ بار بار اپنے صدق کے ثبوت پیش کروں ۔ میں خوب جانتا ہوں کہ جس پر میرا بھروسہ ہے اور جو میری اندرونی حالتوں کو سب سے بہتر جانتا ہے وہ آپ فیصلہ کرے گا دیکھنا چاہیے کہ ایک زمانہ تک ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار نابکار سے کیا کچھ اپنے نام سنے اور ان پر کس قدر بجا تہمتیں افتراء وغیرہ کی لگائی گئیں۔ لیکن چونکہ وہ بچے تھے اور خدا ان کے ساتھ تھا اس لئے آخر کار مخفی نہ رہ سکے اور آسمان نے بڑی قوت کے ساتھ ان نوروں کے ظاہر کرنے کے لئے جوش ما را تب سب مکذب ایسے نابود ہوئے اور لیٹے گئے جیسے کوئی کاغذ کا تختہ لپیٹ دیوے۔ یاد رہے کہ اکثر ایسے اسرار دقیقه بصورت اقوال یا افعال انبیاء سے ظہور میں آتے رہے ہیں کہ جو نادانوں کی نظر میں سخت بیہودہ اور شرمناک کام تھے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مصریوں کے برتن اور پار چات مانگ کر لے جانا اور پھر اپنے صرف میں لانا اور حضرت مسیح کا کسی فاحشہ کے گھر میں چلے جانا اور اس کا عطر پیش کردہ جو حلال وجہ سے نہیں تھا ، استعمال کرنا اور اس کے لگانے سے روک نہ دینا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تین مرتبہ ایسے طور پر کلام کرنا جو بظا ہر دروغ گوئی میں داخل تھا پھر اگر کوئی تکبر اور خودستائی کی راہ سے اس بنا پر