آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 353
روحانی خزائن جلد ۵ ۳۵۳ آئینہ کمالات اسلام بات نبی کی جو نبی کی توجہ تام سے اور اس کے خیال کی پوری مصروفیت سے اس کے منہ سے نکلتی ہے وہ (۳۵۳) بلا شبہ وہی ہوتی ہے تمام احادیث اسی درجہ کی وحی میں داخل ہیں جن کو غیر متلوجی کہتے ہیں۔ اب اللہ جل شانه آیت موصوفہ محدوحہ میں فرماتا ہے کہ اس ادنی درجہ کی وحی میں جو حدیث کہلاتی ہے بعض صورتوں میں شیطان کا دخل بھی ہو جاتا ہے اور وہ اس وقت کہ جب نبی کا نفس ایک بات کیلئے تمنا کرتا ہے تو اس کا اجتہاد غلطی کر جاتا ہے اور نبی کی اجتہادی غلطی بھی در حقیقت وحی کی غلطی ہے کیونکہ نبی تو کسی حالت میں وجی سے خالی نہیں ہوتاوہ اپنے نفس سے کھویا جاتا ہے اور خدائے تعالیٰ کے ہاتھ میں ایک آلہ کی طرح ہوتا ہے پس چونکہ ہر یک بات جو اس کے منہ سے نکلتی ہے وحی ہے۔ اس لئے جب اس کے اجتہاد میں غلطی ہوگئی تو وحی کی غلطی کہلائے گی نہ اجتہاد کی غلطی ۔ اب خدائے تعالیٰ اس کا جواب قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کبھی نبی کی اس قسم کی وحی جس کو دوسرے لفظوں میں اجتہاد بھی کہتے ہیں مس شیطانی سے مخلوط ہو جاتی ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب نبی کوئی تمنا کرتا ہے کہ یوں ہو جائے تب ایسا ہی خیال اس کے دل میں گزرتا ہے جس پر نبی مستقل رائے قائم کرنے کیلئے ارادہ کر لیتا ہے تب فی الفور وحی اکبر جو کلام الہی اور وحی متلو اور میمن ہے نبی کو اس غلطی پر متنبہ کردیتی ہے اور روحی متلو شیطان کے دخل سے بکلی منزہ ہوتی ہے کیونکہ وہ ایک سخت ہیت اور شوکت اور روشنی اپنے اندر رکھتی ہے اور قول ثقیل اور شدید النزول بھی ہے اور اس کی تیز شعائیں شیطان کو جلاتی ہیں اس لئے شیطان اس کے نام سے دور بھاگتا ہے اور نزدیک نہیں آسکتا اور نیز ملائک کی کامل محافظت اس کے ارد گرد ہوتی ہے لیکن وحی غیر متلو جس میں نبی کا اجتہاد بھی داخل ہے یہ قوت نہیں رکھتی ۔ اس لئے تمنا کے وقت جو کبھی شاذ ونادراجتہاد کے سلسلہ میں پیدا ہو جاتی ہے۔ شیطان نبی یا رسول کے اجتہاد میں دخل دیتا ہے پھر وحی متلو اس دخل کو اٹھا دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ انبیاء کے بعض اجتہادات میں غلطی بھی ہو گئی ہے جو بعد میں رفع کی گئی۔ اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جس حالت میں خدا تعالیٰ کا یہ قانون قدرت ہے کہ نبی بلکہ رسول کی ایک قسم کی وجی میں بھی جو وحی غیر متلو ہے شیطان کا دخل بموجب قرآن کریم کی تصریح کے ہوسکتا ہے تو پھر کسی دوسرے شخص کو کب یہ حق پہنچتا ہے کہ اس قانون قدرت کی تبدیل کی درخواست کرے ماسوا اس کے صفائی اور راستی خواب کی اپنی پاک باطنی اور سچائی اور طہارت پر موقوف ہے۔ یہی قدیم قانون قدرت ہے جو اس کے رسول کریم کی معرفت ہم تک پہنچا ہے کہ بچی خوابوں کے لئے ضرور ہے کہ بیداری کی حالت میں انسان ہمیشہ سچا اورخدا تعالی کیلئے راستباز ہو اور کچھ شک نہیں کہ جو شخص اس قانون پر چلے گا اور اپنے دل کو