آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 352 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 352

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۵۲ آئینہ کمالات اسلام ۳۵۲) مندرجه نشان آسمانی استخارہ کریں تو میں آپ کے لئے دعا کروں گا۔ کیا خوب ہو کہ یہ استخارہ میرے روبروہو تا میری توجہ زیادہ ہو۔ آپ پر کچھ ہی مشکل نہیں لوگ معمولی او نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں مگر اس جگہ نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطر کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی۔ کچی خواب اپنی سچائی کے آثار آپ ظاہر کر دیتی ہے وہ دل پر ایک نور کا اثر ڈالتی ہے اور میخ آہنی کی طرح اندر کھب جاتی ہے اور دل اس کو قبول کر لیتا ہے اور اس کی نورانیت اور ہیبت بال بال پر طاری ہو جاتی ہے۔ میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر آپ میرے روبرو اور میری ہدایت اور تعلیم کے موافق اس کام میں مشغول ہوں تو میں آپ کے لئے بہت کوشش کروں گا کیونکہ میرا خیال آپ کی نسبت بہت نیک ہے اور خدا تعالیٰ سے چاہتا ہوں کہ آپ کو ضائع نہ کرے اور رشد اور سعادت میں ترقی دے۔اب میں نے آپ کا وقت بہت لے لیا ختم کرتا ہوں والسلام علی من اتبع الہدی۔ آپ کا مکر خط پڑھ کر ایک بات کچھ زیادہ فصیل کی محتاج معلوم ہوئی اور وہ یہ ہے کہ استخارہ کے لئے ایسی دعا کی جائے کہ ہر یک شخص کا استخارہ شیطان کے دخل سے محفوظ ہو۔ عزیز من یہ بات خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کے برخلاف ہے کہ وہ شیاطین کو ان کے مواضع مناسبہ سے معطل کر دیوے۔ اللہ جل شانه قرآن کریم میں فرماتا ہے وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولِ وَلَا نَبِيَّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَنُ فِي أمنيته فَيَتَسَحُ اللهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَنُ ثُمَّ يحكمُ الله است وَ اللَّهُ عَلمُ حَکم ہے یعنی ہم نے کوئی ایسا رسول اور نبی نہیں بھیجا کہ اس کی یہ حالت نہ ہو کہ جب وہ کوئی تمنا کرے یعنی اپنے نفس کے جوش سے کسی بات کو چاہے تو شیطان اس کی خواہش میں کچھ نہ ملاوے یعنی جب کوئی رسول یا کوئی نبی اپنے نفس کے جوش سے کسی بات کو چاہتا ہے تو شیطان اس میں بھی دخل دیتا ہے تب وحی متلو جو شوکت اور ہیبت اور روشنی نام رکھتی ہے اس دخل کو اٹھا دیتی ہے اور منشاء الہی کو مصفا کر کے دکھلا دیتی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نبی کے دل میں جو خیالات اٹھتے ہیں اور جو کچھ خواطر اس کے نفس میں پیدا ہوتی ہیں در حقیقت وہ تمام وحی ہوتی ہیں جیسا کہ قرآن کریم اس پر شاہد ہے ۔ وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحی بولی سے لیکن قرآن کریم کی وجی دوسری وجی سے جو صرف معانی منجانب اللہ ہوتی ہیں تمیز کی رکھتی ہے اور نبی کے اپنے تمام اقوال وحی غیر متلو میں داخل ہوتے ہیں کیونکہ روح القدس کی برکت اور چمک ہمیشہ نبی کے شامل حال رہتی ہے اور ہر یک بات اس کی برکت سے بھری ہوئی ہوتی ہے اور وہ برکت روح القدس سے اس کلام میں رکھی جاتی ہے لہذا ہر ایک الحج :۵۳ النجم :۵،۴