آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 325
روحانی خزائن جلد ۵ ۳۲۵ آئینہ کمالات اسلام وقت تک مر جائے گا مگر میری اس پیشگوئی میں نہ ایک بلکہ چھ دعوے ہیں ۔ اول نکاح ۳۲۵ کے وقت تک میرا زندہ رہنا۔ دوم نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقینا زندہ رہنا۔ سوم پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا۔ چہارم اس کے خاوند کا اڑھائی برس کے عرصہ تک مرجانا ۔ پنجم اس وقت تک کہ میں اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا۔ ششم پھر آخر یہ کہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر با وجود سخت مخالفت اس کے اقارب کے میرے نکاح میں آ جانا ۔ اب آپ ایمانا کہیں کہ کیا یہ باتیں انسان کے اختیار میں ہیں اور ذرہ اپنے دل کو تھام کر سوچ لیں کہ کیا ایسی پیشگوئی بچے ہو جانے کی حالت میں انسان کا فعل ہو سکتی ہے ۔ پھر اگر اس پیشگوئی پر جولڑکی کے باپ کے متعلق ہے جو ۳۰ ستمبر ۱۸۹۶۲ء کو پوری ہو گئی آپ کا دل نہیں ٹھہرتا تو آپ اشاعۃ السنہ میں ایک اشتہار حسب اپنے اقرار کے دے دیں کہ اگر یہ دوسری پیشگوئیاں بھی پوری ہو گئیں تو اپنے ظنون باطلہ سے تو بہ کروں گا اور دعوے میں سچا سمجھ لوں گا اور ساتھ اس کے خدا تعالیٰ سے ڈر کر یہ بھی اقرار کر دیں کہ ایک تو ان میں سے پوری ہوگئی اور اگر اس پیشگوئی کے پورا ہو جانے کا آپ کے دل میں زیادہ اثر نہ ہو تو اس قدر تو ضرور چاہیے کہ جب تک اخیر ظاہر نہ ہو کف لسان اختیار کریں جب ایک پیشگوئی پوری ہو گئی تو اس کی کچھ تو ہیبت آپ کے دل پر چاہیے ۔ آپ تو میری ہلاکت کے منتظر اور میری رسوائی کے دنوں کے انتظار میں ہیں اور خدا تعالیٰ میرے دعوی کی سچائی پر نشان ظاہر کرتا ہے اگر آپ اب بھی نہ ما نہیں تو میرا آپ پر زور ہی کیا ہے لیکن یاد رکھیں کہ انسان اپنے اوائل ایام انکار میں باعث کسی اشتباہ کے معذور ٹھہر سکتا ہے لیکن نشان دیکھنے پر ہرگز معذور نہیں