آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 324
روحانی خزائن جلد ۵ ۳۲۴ آئینہ کمالات اسلام مکرریہ کہ اللہ جل شانہ خوب جانتا ہے کہ میں اپنے دعوی میں صادق ہوں نہ مفتری ہوں نہ دجال نہ کذاب۔ اس زمانہ میں کذاب اور دجال اور مفتری پہلے اس سے کچھ تھوڑے نہیں تھے تا خدا تعالیٰ صدی کے سر پر بھی بجائے ایک مجدد کے جو اس کی طرف سے مبعوث ہو ایک دجال کو قائم کر کے اور بھی فتنہ اور فساد ڈال دیتا مگر جو لوگ سچائی کو نہ سمجھیں اور حقیقت کو دریافت نہ کریں اور تکفیر کی طرف دوڑیں میں ان کا کیا علاج کروں۔ میں اس بیماردار کی طرح جو اپنے عزیز بیمار کے غم میں مبتلا ہوتا ہے اس ناشناس قوم کیلئے سخت اند و نگیں ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اے قادر ذو الجلال خدا۔ اے ہادی و رہنما ان لوگوں کی آنکھیں کھول اور آپ ان کو بصیرت بخش اور آپ ان کے دلوں کو سچائی اور راستی کا الہام بخش اور یقین رکھتا ہوں کہ میری دعا ئیں خطا نہیں جائیں گی کیونکہ میں اس کی طرف سے ہوں اور اس کی طرف بلاتا ہوں یہ سچ ہے کہ اگر میں اس کی طرف سے نہیں ہوں اور ایک مفتری ہوں تو وہ بڑے عذاب سے مجھ کو ہلاک کرے گا کیونکہ وہ مفتری کو کبھی وہ عزت نہیں دیتا کہ جو صادق کو دی جاتی ہے۔ میں نے جو ایک پیشگوئی جس پر آپ نے میرے صادق اور کا ذب ہونے کا حصر کر دیا آپ کی خدمت میں پیش کی ہے یہی میرے صدق اور کذب کی شناخت کیلئے ایک کافی شہادت ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ کذاب اور مفتری کی مدد کرے۔ لیکن ساتھ اس کے میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اس پیشگوئی کے متعلق دو پیشگوئی اور ہیں جن کو میں اشتہار ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء میں شائع کر چکا ہوں جن کا مضمون یہی ہے کہ خدا تعالیٰ اس عورت کو بیوہ کر کے میری طرف رد کرے گا۔ اب انصاف سے دیکھیں کہ نہ کوئی انسان اپنی حیات پر اعتماد کر سکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کی نسبت دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ فلاں وقت تک زندہ رہے گا یا فلاں ۳۲۴