آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 269 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 269

روحانی خزائن جلده ۲۶۹ آئینہ کمالات اسلام صلیب کا زمانہ اور عیسی پرستی کا زمانہ ہے جو شخص کہ سمجھ سکتا ہے چاہیے کہ ہلاک ہونے ﴿۲۹﴾ سے پہلے سمجھ لے۔ یکسر الصلیب پر غور کرے۔ یقتل الخنزیر کو سوچے ۔ یضع الجزية كونظر تدبر سے دیکھے جو یہ سب امور اہل کتاب کے حق میں اور ان کی شان میں صادق آ سکتے ہیں نہ کسی اور کے حق میں پھر جب تسلیم کیا گیا کہ اس زمانہ میں اعلیٰ طاقت عیسائی مذہب کی طاقت اور عیسائی گورنمنٹوں کی طاقت ہوگی جیسا کہ قرآن کریم بھی اسی بات کی طرف اشارہ فرماتا ہے تو پھر ان طاقتوں کے ساتھ ایک فرضی اور خیالی اور وہمی د قبال کی گنجائش کہاں؟ یہی لوگ تو ہیں جو تمام زمین پر محیط ہو گئے ہیں پھر اگر ان کے مقابل پر کوئی اور دجال خارج ہو تو وہ باوجود ان کے کیونکر زمین پر محیط ہو ۔ ایک میان میں دو تلواریں تو سما نہیں سکتیں جب ساری زمین پر دجال کی بادشاہت ہوگی تو پھر يوحنا کے رنگ میں اترا تھا مسلمان اگر اس قصہ کو جو انجیل میں موجود ہے اور خود حضرت مسیح کے فیصلہ سے تصفیہ یافتہ امر ہے منظور نہ کریں تو حدیث حدثوا عن بنی اسرائیل پر تو عمل کرنا چاہیئے اور تکذیب کے تو کسی طرح مجاز نہیں کیونکہ تکذیب سے ہر ایک مسلمان منع کیا گیا ہے اور تصدیق کیلئے اور بھی بہت سے دلائل قرآن کریم سے ملتے ہیں جن کا ہم اپنی دوسری تالیفات میں اور کچھ اس رسالہ میں بھی ذکر کر چکے ہیں۔ اب میں ان باتوں کو طول دینا نہیں چاہتا صرف اپنی اس تقریر کو اس بات پر ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس لئے بھیجا ہے کہ تا میں اس زمانہ کے اوہام دور کروں اور ٹھوکر سے بچاؤں اور مجھے اس نے توفیق عنایت کی ہے کہ اگر آپ حق کے طالب ہوں تو میں آپ کی تسلی کروں سواب میں خدائے تعالیٰ کو اس بات پر شاہد کرتا ہوں کہ میں نے آپ کو آپ کی غلطیوں کے رفع کرنے کے لئے بلایا اگر اب بھی آپ خاموش رہے تو اللہ جل شانہ کی حجت آپ پر پوری ہوگی اور آپ کے تمام گروہ کا گناہ آپ ہی کی گردن پر ہوگا حضرت