آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 268

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۶۸ آئینہ کمالات اسلام (۲۸) جگہ دیتا ہے۔ اور میرے فضل سے نومیدمت ہو ۔ یوسف کو دیکھا اور اس کے اقبال کو ۔ فتح کا وقت آ رہا ہے اور فتح قریب ہے ۔ مخالف یعنی جن کے لئے تو بہ مقدر ہے اپنی سجدہ گاہوں میں گریں گے کہ اے ہمارے خدا ہمیں بخش کہ ہم خطا پر تھے آج تم پر کوئی سرزنش نہیں خدا تمہیں بخش دے گا اور وہ ارحم الراحمین ہے ۔ میں نے ارادہ کیا کہ ایک اپنا خلیفہ زمین پر مقرر کروں تو میں نے آدم کو پیدا کیا جو نجی الاسرار ہے ہم نے ایسے دن اس کو پیدا کیا جو وعدہ کا دن تھا ۔ یعنی جو پہلے سے پاک نبی کے واسطہ سے ظاہر کر دیا گیا تھا کہ وہ فلاں زمانہ میں پیدا ہوگا اور جس وقت پیدا ہوگا فلاں قوم دنیا میں اپنی سلطنت اور طاقت میں غالب ہوگی اور فلاں قسم کی مخلوق پرستی روئے زمین پر پھیلی ہوئی ہوگی اس زمانہ میں وہ موعود پیدا ہوا اور وہ بنیا د فساد اور زمین میں دجالیت کی نجاست پھیلانے والے تھے اور اصلیت سے بگڑ کر دجال اکبر بن گئے تھے اور چونکہ اس اترنے والے کے لئے یہ موقعہ نہ ملا کہ وہ کچھ روشنی زمین والوں سے حاصل کرتا یا کسی کی بیعت یا شاگردی سے فیضیاب ہوتا بلکہ اس نے جو کچھ پایا آسمان کے خدا سے پایا اسی وجہ سے اس کے حق میں نبی معصوم کی پیشگوئی میں یہ الفاظ آئے کہ وہ آسمان سے اترے گا یعنی آسمان سے پائے گا زمین سے کچھ نہیں پائے گا اور حضرت عیسی کے نام پر اس عاجز کے آنے کا ستر یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس عیسائی فتنہ کے وقت میں یہ فتنہ حضرت مسیح کو دکھایا یعنی ان کو آسمان پر اس فتنہ کی اطلاع دے دی کہ تیری قوم اور تیری امت نے اس طوفان کو بر پا کیا ہے تب وہ اپنی قوم کی خرابی کو کمال فساد پر دیکھ کر نزول کے لئے بے قرار ہوا اور اس کی روح سخت جنبش میں آئی اور اس نے زمین پر اپنی ارادات کا ایک مظہر چاہا تب خدا تعالیٰ نے اس وعدہ کے موافق جو کیا گیا تھا مسیح کی روحانیت اور اس کے جوش کو ایک جو ہر قابل میں نازل کیا سو ان معنوں کر کے وہ آسمان سے اترا اسی کے موافق جو ایلیا نبی