آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 238 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 238

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۳۸ آئینہ کمالات اسلام ۲۳۸) ظہور پکڑتی ہے حقیقت ایک ہی ہے لیکن بباعث هدت اور ضعف رنگ کے مختلف نام رکھے جاتے ہیں اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ملفوظات مبارکہ اشارت فرما ر ہے ہیں کہ محدث نبی بالقوہ ہوتا ہے اور اگر باب نبوت مسدود نہ ہوتا تو ہر یک محدث اپنے وجود میں قوت اور استعداد نبی ہو جانے کی رکھتا تھا اور اسی قوت اور استعداد کے لحاظ سے محدث کا حمل نبی پر جائز ہے یعنی کہہ سکتے ہیں کہ المحدث نبی جیسا کہ کہہ سکتے ہیں کہ العنب خَمُر نظرًا على القوة والاستعداد و مثل هذا الـحـمـل شـائـع متعارف في عبارات القوم و قد جرت المحاورات على ذالك كما لا يخفى على كل ذكى عالم مطلع على كتب الادب والكلام | والتصوّف اور اسی حمل کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جل شانہ نے اس قراءت کو جو نہیں ہے بلکہ ان کو رباطن فلسفیوں کی رائیں ہیں جو حضرت باری تعالیٰ عزاسمہ کو مدبر بالا رادہ نہیں سمجھتے بلکہ آفتاب اور ماہتاب کی طرح بعض امور کے صدور کے لئے علت موجبہ خیال کرتے ہیں جب آپ خدائے تعالی کو مد بر بالا رادہ اور اپنی مرضی کے ساتھ منزل وحی یقین کریں گے اور وحی کو ایسی چیز سمجھیں گے جو اسی سے نکلتی ہے اور اسی کے اتارنے سے الہی قوت کے ساتھ دلوں پر اترتی ہے تو اس صورت میں آپ اس کو ملکہ فطرت نہیں کہہ سکتے اور نہ اس کا نام فطرتی قوت رکھ سکتے ہیں بلکہ ایک نور اللہ قرار دیں گے جو خدائے تعالی کے ہاتھ سے اور اس کے ارادہ سے اسی وقت اترتا ہے جب وہ چاہتا ہے ہاں وہ نور جو اترتا ہے وہ فطرت قابلہ پر ہی اپنی روشنی ڈالتا ہے اور اپنا آنا اس کو جنگلا دیتا ہے۔ اور یہ کہنا کہ ہم اس طرح پر وحی کو مان نہیں سکتے کیونکہ وہ عقل انسانی کے مافوق ہے سو اس کا یہی جواب ہے کہ عقل انسانی اگر ایک ثابت شدہ صداقت کو اپنے فہم اور ادراک سے