آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 237 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 237

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۳۷ آئینہ کمالات اسلام کر لیتا ہے اور اگر وہ ہاونِ حوادث میں پیسا بھی جائے اور غبار سا کیا جائے تب بھی بغیر انسی (۲۳۷ مع اللہ کے اور کوئی آواز اس کے اندر سے نہیں آتی ۔ جب کسی کی حالت اس نوبت تک پہنچ جائے تو اس کا معاملہ اس عالم سے وراء الوراء ہو جاتا ہے اور ان تمام ہدایتوں اور مقامات عالیہ کو ظلمی طور پر پالیتا ہے جو اس سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو ملے تھے اور <mark>انبیاء</mark> اور رسل کا وارث اور نائب ہو جاتا ہے وہ حقیقت جو <mark>انبیاء</mark> میں معجزہ کے نام سے موسوم ہوتی ہے وہ اس میں کرامت کے نام سے ظاہر ہو جاتی ہے اور وہی حقیقت جو <mark>انبیاء</mark> میں <mark>عصمت</mark> کے نام سے نامزد کی جاتی ہے اس میں محفوظیت کے نام سے پکاری جاتی ہے اور وہی حقیقت جو <mark>انبیاء</mark> میں نبوت کے نام سے بولی جاتی ہے اس میں محدثیت کے پیرا یہ میں طاقت اور انسان کی فطرت سے بالاتر ہیں تو پھر آپ کا یہ اصول ٹوٹتا ہے کہ وحی اور کچھ چیز نہیں صرف ملکہ فطرت ہے کیونکہ انسان کی فطرت خدائی کی طاقتیں اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتی ہر یک انسان کی فطرت اسی قدر ملکہ رکھتی ہے جو اس کی بشریت کے مناسب حال ہے اور چونکہ آپ کا یہی مذہب ہے کہ وحی کی حقیقت ملکہ فطرت سے زیادہ نہیں تو وہی اعتراض جس کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے وارد ہو گا ہر ایک اہل حال جو وحی کی حقیقت کو بطور واردات کے جانتا ہے وہ آپ کی اس قیاسی بات پر ہنسے گا جو وحی صرف ملکہ فطرت ہے۔ اگر چہ اس قدر تو بیچ ہے کہ وحی الہی کے انوار قبول کرنے کے لئے فطرت قابلہ شرط ہے جس میں وہ انوار منعکس ہوسکیں جو خدائے تعالیٰ کسی وقت اپنے خاص ارادہ سے نازل کرے مگر یہ سراسر جھوٹ ہے کہ وہ انوار انسانی فطرت میں ہی جمع ہیں اور مبدء فیض سے اس کے ارادہ کے ساتھ کچھ نازل نہیں ہوتا جو اپنے اندر خدائی طاقتوں کی رنگ و بو رکھتا ہو ۔ عزیز سید جن خیالات کی آپ اس مسئلہ میں پیروی کرتے ہیں وہ در حقیقت اسلام کی تعلیم