آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 218 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 218

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۱۸ آئینہ کمالات اسلام (۲۱۸) ظہور آخری زمانہ میں بلاد مشرقیہ سے قرار دیا گیا ہے اور دجال کا ظہور بھی آخری زمانہ میں بلا د مشرقیہ سے قرار دیا گیا ہے۔ ان دونوں حدیثوں کے ملانے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص دجال کے مقابل پر آنے والا ہے وہ یہی شخص ہے اور سنت اللہ بھی اسی بات کو چاہتی ہے کہ جس ملک میں دجال جیسا خبیث پیدا ہوا اسی ملک میں وہ طیب بھی پیدا ہو ۔ کیونکہ طبیب جب آتا ہے تو بیمار کی طرف ہی رخ کرتا ہے اور یہ نہایت تعجب کا مقام ہے کہ بموجب احادیث صحیحہ کے دجال تو ہندوستان میں پیدا ہو اور مسیح دمشق کے میناروں پر جا اترے اس میں شک نہیں کہ مدینہ منورہ سے ہندوستان سمت مشرق میں واقع ہے بلاشبہ حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ مشرق کی طرف سے ہی دجال کا ظہور ہوگا اور مشرق کی طرف سے ہی رایات سود مہدی اللہ کے ظاہر ہوں گے گویا روز ازل سے یہی مقرر ہے کہ محل فتن بھی مشرق ہی ہے اور محل مکرر یه که ۱۸ / اکتوبر ۱۸۹۳ء کے بعد دسمبر ۱۸۹۲ء کو ایک اور رویا دیکھا کیا دیکھتا ہوں کہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہ بن گیا ہوں یعنی خواب میں ایسا معلوم کرتا ہوں کہ وہی ہوں اور خواب کے عجائبات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ایک شخص اپنے تئیں دوسرا شخص خیال کر لیتا ہے سو اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ میں علی مرتضی ہوں ۔ اور ایسی صورت واقعہ ہے کہ ایک گروہ خوارج کا میری خلافت کا مزاحم ہو رہا ہے یعنی وہ گر وہ میری خلافت کے امرکور و کنا چاہتا ہے اور اس میں فتنہ انداز ہے جب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ہیں اور شفقت اور تو ؤد سے مجھے فرماتے ہیں کہ يا على دعهم و انصارهم