آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 183

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۸۳ آئینہ کمالات اسلام دیکھنے والا اور پھر جلد نہ پکڑنے والا اگر اس کا روحانی جمال تمثل کے طور پر ظاہر ہو تو (۱۸۳ ہر یک دل پروانہ کی طرح اس پر گرے پر اس نے اپنا جمال غیروں سے چھپایا۔ اور انہیں پر ظاہر کیا جو صدق سے اس کو ڈھونڈھتے ہیں اس نے ہر ایک خوبصورت چیز پر اپنے حسن کا پر توہ ڈالا اگر آفتاب ہے یا ماہتاب یا وہ سیارے جو چمکتے ہوئے نہایت پیارے معلوم ہوتے ہیں یا خوبصورت انسانوں کے منہ جو دلکش اور ملیح دکھائی دیتے ہیں یا وہ تازہ اور تر بتر اور خوشنما پھول جو اپنے رنگ اور بو اور آب و تاب سے دلوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں یہ سب در حقیقت ظلمی طور پر اس حسن لا زوال سے ایک ذرہ کے موافق حصہ لیتے ہیں وہ حسن ظن اور وہم اور خیال نہیں بلکہ یقینی اور قطعی اور نہایت روشن ہے جس کے تصور سے تمام نظریں خیرہ ہوتی ہیں اور پاک دل اس کی طرف کھینچے جاتے خبر میں معلوم کی ہیں جو مطابق واقعہ تھیں پھر میں کیونکر کہوں کہ فرشتے کسی کو نظر نہیں آ سکتے بلا شبہ نظر آسکتے ہیں مگر اور آنکھوں سے ۔ اور جیسے یہ لوگ ان باتوں پر بنتے ہیں عارف ان کی حالتوں پر روتے ہیں ۔ اگر صحبت میں رہیں تو کشفی طریقوں سے مطمئن ہو سکتے ہیں لیکن مشکل تو یہی ہے کہ ایسے لوگوں کی کھوپڑی میں ایک قسم کا تکبر ہوتا ہے۔ وہ تکبر انہیں اس قدر بھی اجازت نہیں دیتا کہ انکسار اور تذلل اختیار کر کے طالب حق بن کر حاضر ہو جا ئیں ۔ اور یہ خیالات کہ ہمیں فرشتوں کے کاموں کا کیوں کچھ احساس نہیں ہوتا۔ طرف اشارہ کر رہی ہے کہ تقویم عالم کی متفرق خوبیوں اور حسنوں کا ایک ایک حصہ انسان کو دے کر بوجہ جا معیت جمیع شامل وشیون عالم اس کو احسن ٹھہرایا گیا ہے پس اب بوجه تشابہ عالمین اور نیز بوجہ ضرورت تناسب افعال صانع واحد ماننا پڑتا ہے کہ جو