آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 182 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 182

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۸۲ آئینہ کمالات اسلام دوم یہ کہ اللہ جل شانہ کے حسن و احسان پر اطلاع وافر پیدا کرے کیونکہ کامل درجہ کی محبت یا تو حسن کے ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے اور یا احسان کے ذریعہ سے اور اللہ جل شانہ کا حسن اس کی ذات اور صفات کی خوبیاں ہیں اور خوبیاں یہ ہیں کہ وہ خیر محض ہے اور مہدا ہے جمیع فیضوں کا اور مصدر ہے تمام خیرات کا اور جامع ہے تمام کمالات کا اور مرجع ہے ہر یک امر کا اور موجد ہے تمام وجودوں کا اور علت العلل ہے ہر یک مؤثر کا جس کی تاثیر یا عدم تاثیر ہر یک وقت اس کے قبضہ میں ہے اور واحد لاشریک ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور اقوال میں اور افعال میں اور اپنے تمام کمالوں میں اور از لی اور ابدی ہے اپنی جمیع صفات کا ملہ کے ساتھ ۔ بڑا ہی نیک اور بڑا ہی رحیم با وجود قدرت کاملہ سزا دہی کے ہزاروں برسوں کی خطائیں ایکدم کے رجوع میں بخشنے والا بڑا ہی حلیم اور بردبار اور پردہ پوش کروڑ ہا نفرت کے کاموں اور مکر وہ گنا ہوں کو مسلّم ہے ان فانی آنکھوں سے نظر آتا ہے۔ ماسوا اس کے یہ بات بھی درست نہیں کہ کسی طرح نظر ہی نہیں آ سکتے کیونکہ عارف لوگ اپنے مکاشفات کے ذریعہ سے جو اکثر بیداری میں ہوتے ہیں فرشتوں کو روحانی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں اور ان سے باتیں کرتے ہیں اور کئی علوم ان سے اخذ کرتے ہیں اور مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جو مفتری کذاب کو بغیر ذلیل اور معذب کرنے کے نہیں چھوڑتا کہ میں اس بیان میں صادق ہوں کہ بار با عالم کشف میں میں نے ملائک کو دیکھا ہے اور ان سے بعض علوم اخذ کئے ہیں اور ان سے گذشتہ یا آنے والی چھ طور کے خلقت کے مدارج طے کر کے اپنے کمال انسانیت کو پہنچتا ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ عالم صغیر اور عالم کبیر میں نہایت شدید تشابہ ہے اور قرآن سے انسان کا عالم صغیر ہونا ثابت ہے اور آیت لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ اس کی التين : ۵