آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 175
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۷۵ آئینہ کمالات اسلام لِيُعَذِّبَ اللهُ الْمُنْفِقِينَ وَالْمُنْفِقْتِ وَالْمُشْرِكِيْنَ وَالْمُشْرِكْتِ (۷۵) وَيَتُوبَ اللهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا یعنی انسان نے جوامانت اللہ کو قبول کر لیا تو اس سے یہ لازم آیا جومنافقین اور منافقات اور مشرکین اور مشرکات جنہوں نے صرف زبان سے قبول کیا اور عملاً اس کے پابند نہیں ہوئے وہ معذب ہوں اور مومنین اور مومنات جنہوں نے امانت کو قبول کر کے عملاً پابندی بھی اختیار کی وہ مور د رحمت الہی ہوں۔ یہ آیت بھی صاف اور صریح طور پر بول رہی ہے کہ آیت موصوفہ میں ظلوم و جمول سے مراد مومن ہیں جن کی طبیعتوں اور استعدادوں نے امانت کو قبول کر لیا اور پھر اس پر کار بند ہو گئے کیونکہ صاف ظاہر ہے کہ مشرکوں اور منافقوں نے کامل طور پر قبول نہیں کیا اور حملها الانسان میں جو انسان کے لفظ پر الف لام ہے وہ بھی در حقیقت تخصیص کے لئے ہے یا آپ ہی چاند ہو گیا ہے یا آپ ہی زمین ہے جس پر ہزار ہا ملک آباد ہیں پس ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان بلاشبہ ایک عالم صغیر ہے جو اپنے نفس میں عالم کبیر کا ہر ایک نمونہ رکھتا ہے اور یہ نہایت عمدہ طریق ہے کہ جب عالم کبیر کے عجائبات دقیقہ میں سے کوئی سرمخفی سمجھ نہ آوے تو عالم صغیر کی طرف رجوع کیا جاوے اور دیکھا جاوے کہ وہ اس میں کیا گواہی دیتا ہے کیونکہ یہ دونوں عالم مرا با متقابلہ کی طرح ہیں اور جس عالم کو ہم نے بجزئیاتہ دیکھ لیا ہے اس کو ہم دوسرے عالم کی تشخیص کے لئے ایک پیمانہ ٹھہر سکتے ہیں اور بلاشبہ اس کی شہادت ہمارے لئے موجب اطمینان ہو سکتی ہے اب جب کہ یہ تمہید محمد ہو چکی تو نہایت درست ہو گا اگر ہم اور خواہ ایک فرد از افراد عالم اور خواہ وہ عالم کبیر ہے جو زمین و آسمان و مافیہا سے مراد ہے اور خواہ وہ عالم صغیر جو انسان سے مراد ہے وہ بحکمت و قدرت باری تعالی پیدائش کے چھ مرتبے طے کر کے اپنے کمال خلقت کو پہنچتی ہے اور یہ عام قانون قدرت ہے کچھ ابتدائی الاحزاب : ۷۴