آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 174

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۷۴ آئینہ کمالات اسلام (۱۷۴) غرض ان آیتوں کی حقیقت واقعی یہی ہے جو خدا تعالیٰ نے میرے پر کھولی اور میں ہرگز ایسے معنی نہیں کروں گا جن سے ایک طرف تو یہ لازم آوے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ پاک امانت نہیں تھی بلکہ کوئی فساد کی بات تھی جو ایک مفسد ظالم نے قبول کر لی اور نیکوں نے اس کو قبول نہ کیا اور دوسری طرف تمام مقدس رسولوں اور نبیوں کو جو اول درجہ پر امانت کے عمل ہیں۔ ظالم ٹھہرایا جاوے۔ اور میں بیان کر چکا ہوں کہ دراصل امانت اور اسلام کی حقیقت ایک ہی ہے اور امانت اور اسلام در اصل محمود چیز ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ کا دیا ہوا اسی کو واپس دیا جاوے جیسے امانت واپس دی جاتی ہے پس جس نے ایک محمود اور پسندیدہ چیز کو قبول کر لیا اور خدا تعالیٰ کے حکم سے منہ نہ پھیرا اور اس کی مرضی کو اپنی مرضی پر مقدم رکھا وہ لائق مذمت کیوں ٹھہرے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس آیت کے آگے خدا تعالیٰ فرماتا ہے بقیه حاشیه در حاشیه آفتاب کی طرح یہ ایک روشنی بھی رکھتا ہے اور ماہتاب کی طرح ایک نور بھی اور رات کی طرح ایک ظلمت بھی اور زمین کی طرح ہزار ہا نیک اور بد ارادوں کا منبت ہو سکتا ہے اور درختوں کی طرح نشو و نما رکھتا ہے اور اپنی قوت جاز بہ کے ساتھ ہر ایک چیز کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے اور ایسا ہی اس کا عالم صغیر ہونا اس طرح بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ اپنے کشوف صادقہ اور رویا صالحہ کے وقت عالم کبیر کی ہر ایک چیز کو اپنے اندر پاتا ہے کبھی اپنے کشفوں اور خوابوں میں چاند دیکھتا ہے کبھی سورج کبھی ستارے کبھی طرح طرح کی نہریں اور باغ اور کبھی آگ اور ہوا وغیرہ اور زیادہ تر عجیب یہ کہ بھی اپنے رویا صالحہ اور کشوف صادقہ میں ایسا پاتا ہے کہ آپ ہی سورج بن گیا لیکن چھ دن کی تخصیص کچھ سمجھ میں نہیں آتی ۔ اما الجواب پس واضح ہو کہ یہ چھ دن کا ذکر در حقیقت مراتب تکوینی کی طرف اشارہ ہے یعنی ہر یک چیز جو بطور خلق صادر ہوئی ہے اور جسم اور جسمانی ہے خواہ وہ مجموعہ عالم ہے