آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 149
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۴۹ آئینہ کمالات اسلام میں روحانی طور پر ایمان اور ایمان کے نتائج اور کفر اور کفر کے نتائج ظاہر ہوتے ہیں وہ عالم (۱۴۹ آخرت میں جسمانی طور پر ظاہر ہو جائیں گے اللہ جل شانہ فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِي هذِةٍ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلى ا یعنی جو اس جہان میں اندھا ہے وہ اس جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا۔ ہمیں اس تمنلی وجود سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہیئے اور ذرا سوچنا چاہیئے کہ کیونکر روحانی امور عالم رویا میں متمثل ہو کر نظر آ جاتے ہیں اور عالم کشف تو اس سے بھی عجیب تر ہے کہ باوجود عدم غیبت حس اور بیداری کے روحانی امور طرح طرح کے جسمانی اشکال میں انہیں آنکھوں سے دکھائی دیتے ہیں جیسا کہ بسا اوقات عین بیداری میں ان روحوں سے ملاقات ہوتی ہے جو اس دنیا سے گذر چکی ہیں اور وہ اسی دنیوی زندگی کے طور پر اپنے اصلی جسم میں اسی دنیا کے کپڑوں میں سے ایک پوشاک پہنے ہوئے نظر آتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں اور بسا اوقات ان میں سے مقدس لوگ باذنہ تعالٰی تمام مدار اس نظام کا بے جان اور بے شعور چیزوں پر ہوتا سو ہمیں اس دلیل کی روشنی ملائک کے وجود اور ان کی ضرورت کے ماننے کیلئے ایسی بصیرت بخشتی ہے کہ گویا ہم چشم خود ملائک کے وجود کو دیکھ رہے ہیں۔ اور اگر کوئی اس جگہ یہ شبہ پیش کرے کہ کیوں یہ بات روا نہیں کہ ملائک درمیان نہ ہوں اور ہر یک ور چیز خدا تعالیٰ کے حکم اور اذن اور تدبیر محکم سے وہی خدمت بجالا وے جو اللہ جل شانہ کا منشا ہے کے محمدد کی طرح اپنے عرش کو قرار نہیں دیا اور نہ اس کو محدود قرار دیا۔ ہاں اس کو اعلیٰ سے اعلیٰ ایک طبق دیا ہے سے اسکی نہیں ہےاور مر طبقہ قرار دیا ہے جس سے باعتبار اس کی کیفیت اور کمیت کے اور کوئی اعلیٰ طبقہ نہیں ہے اور یہ امر ایک مخلوق اور موجود کیلئے ممتنع اور محال نہیں ہو سکتا۔ بلکہ نہایت قرین قیاس ہے کہ جو طبقہ عرش اللہ کہلاتا ہے وہ اپنی وسعتوں میں خدائے غیر محدود کے مناسب حال اور غیر محدود ہو۔ اور اگر یہ اعتراض پیش ہو کہ قرآن کریم میں یہ بھی لکھا ہے کہ کسی وقت آسمان پھٹ جائیں سے اور ان میں شگاف ہو جائیں گے اگر وہ لطیف مادہ ہے تو اس کے پھٹنے کے کیا معنے ہیں ا بنی اسرآئیل :۷۳ ہے وہ کام خود بخود ہر یک چیز اپنی فطرتی قوتوں سے کر لیوے اس بات کا جواب کہ کیوں یہ بات جائز نہیں ہے کہ جو کام عالم جسمانی میں ملائک نے کرنا