آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 148
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۴۸ آئینہ کمالات اسلام ۱۳۸) اور وہ ہر ایک ڈر سے اس دن امن میں رہیں گے ایسا ہی فرمایا ہے لِعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ وَلَا انْتُمْ تَحْزَنُونَ الجزو نمبر ۲۵ سورة الزخرف یعنی اے میرے بندو آج کے دن کچھ تم کو خوف نہیں اور نہ کوئی غم تمہیں ہوسکتا ہے۔ لیکن جو شخص دنیا میں صراط مستقیم پر نہیں چلا وہ اس وقت بھی چل نہیں سکے گا اور دوزخ میں گرے گا اور جہنم کی آگ کا ہیمہ بن جائے گا۔ جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ الجز نمبر ۲۰ یعنی بدی کرنے والے اس دن جہنم میں گرائے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ یہ جزا در حقیقت وہی تمہارے اعمال ہیں جو تم دنیا میں کرتے تھے یعنی خدا تعالی کسی پر ظلم نہیں کرے گا بلکہ نیکی کے اعمال جنت کی صورت میں اور بدی کے اعمال دوزخ کی صورت میں ظاہر ہو جائیں گے۔ جاننا چاہیے کہ عالم آخرت در حقیقت دنیوی عالم کا ایک عکس ہے اور جو کچھ دنیا حاشيه اور بد انسان میں فرق کر کے ہریک کے ساتھ اس کے مناسب حال معاملہ کر سکتے ہیں تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا اور صانع حکیم و قدیر و عادل و رحیم و کریم کا کچھ پتہ نہ لگتا بلکہ یہ سلسلہ ذی روحوں کی حیات کا جوزمین پر بستی ہیں ایک دم بھی چل نہ سکتا اور دنیا مع اپنے تمام لوازم کے اپنے خاتمہ کے صدمہ کو دیکھ لیتی ۔ پس اس سے صاف تر اور صریح تر اور روشن تر اور کیا دلیل ہوگی کہ اس آسمانی اور کائنات الجو کے سلسلہ میں وہ گڑ بڑ اور اندھیر نظر نہیں آتا جو اس صورت میں ہوتا جب کہ پھر اگر استقراء میں کسی کو کلام ہو تو یہ تمام علوم درہم برہم ہو جائیں گے اور اگر یہ خلجان ان کے دلوں میں پیدا ہو کہ آسمانوں کا اگر کچھ وجود ہے تو کیوں نظر نہیں آتا۔ تو اس کا یہ جواب ہے کہ ہر ایک مات وجود کا مرکی ہونا شرط نہیں جو وجود نہایت لطافت اور بساطت میں پڑا ہے وہ کیونکر نظر آ جائے اور کیونکر کوئی دور بین اس کو دریافت کر سکے۔ غرض سماوی وجود کو خدا تعالیٰ نے نہایت لطیف قرار دیا ہے چنانچہ اسی کی تصریح میں یہ آیت اشارہ کر رہی ہے کہ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ سے یعنی ہر یک ستارہ اپنے اپنے آسمان میں جو اس کا مبلغ دور ہے تیر رہا ہے۔ اور در حقیقت خدا تعالیٰ نے یونانیوں الزخرف:٧٩ النمل: ٩١ يس: ۴۱