آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 143

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۴۳ آئینہ کمالات اسلام عَلَى رَبَّكَ حَتْمًا مَّقْضِيَّا ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْاوَ نَذَرُ الظَّلِمِينَ فِيْهَا جِثِيًّا - (۱۳) یہ بھی درحقیقت صفت محمودہ ظلومیت کی طرف ہی اشارہ کرتی ہے اور ترجمہ آیت یہ ہے کہ تم میں سے کوئی بھی ایسا نفس نہیں جو آگ میں وارد نہ ہو یہ وہ وعدہ ہے جو تیرے رب نے اپنے پر امر لازم اور واجب الادا ٹھہرا رکھا ہے پھر ہم اس آگ میں وارد ہونے کے بعد متقیوں کو نجات دے دیتے ہیں اور ظالموں کو یعنی ان کو جو مشرک اور سرکش ہیں جہنم میں زانو پر گرے ہوئے چھوڑ دیتے ہیں۔ اس جگہ الظالمین پر جو الف لام آیا ہے۔ وہ فائدہ تخصیص کا دیتا ہے اور اس سے غرض یہ ہے کہ ظالم دو قسم کے ہیں:۔ (۱) ایک متقی ظالم جن کی نجات کا وعدہ ہے اور جو خدا تعالیٰ کے پیارے ہیں۔ یا زمین میں ہوتا ہے علل ابتدائیہ ان کے نجوم اور تاثیرات سماویہ ہی ہوتی ہیں ۔ ہاں اس دوسرے دقیق بھید کو ہر یک شخص نہیں سمجھ سکتا کہ نجوم کے قویٰ فرشتوں سے فیض یاب ہیں اس بھید کو اول قرآن کریم نے ظاہر فرمایا اور پھر عارفوں کو اس طرف توجہ پیدا ہوئی ۔ غرض اس آیت سے بھی منقولی طور پر یہی ثابت ہوا کہ فرشتے نجوم اور آسمانی قومی کے لئے جان کی طرح ہیں اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں کبھی نجوم کا فعل فرشتوں کی طرف منسوب کیا ہے اور کبھی فرشتوں کا فعل نجوم کی طرف منسوب کر دیا ہے بات یہ ہے کہ جب کہ قرآن کریم کی تعلیم کی رو سے فرشتے نجوم اور شمس اور قمر اور آسمان نرا پول ہے استقرا کی رو سے سراسر غلط ثابت ہوتا ہے کیونکہ اگر ہم اس فضا کی نسبت جو چمکتے ہوئے ستاروں تک ہمیں نظر آتا ہے بذریعہ اپنے تجارب استقرائیہ کے تحقیقات کرنا چاہیں تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ سنت اللہ یا قانون قدرت یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے کسی فضا کو محض خالی نہیں رکھا چنانچہ جو شخص غبارہ میں بیٹھ کر ہوا کے طبقات کو چیرتا چلا جاتا ہے وہ شہادت دے سکتا ہے کہ جس قدر وہ اوپر کو چڑھا اس نے کسی حصہ فضا کو خالی نہیں پایا مریم :۷۳۷۲