آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 142
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۴۲ آئینہ کمالات اسلام ۱۴۲) جو ہر انسان میں ہے جو فرشتوں کو بھی نہیں دیا گیا اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جلّ شانہ فرماتا ہے وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا لے یعنی انسان میں ظلومیت اور جہولیت کی صفت تھی اس لئے اس نے اس امانت کو اٹھا لیا ۔ جس کو وہی شخص اٹھا سکتا ہے جس میں اپنے نفس کی مخالفت اور اپنے نفس پر سختی کرنے کی صفت ہو ۔ غرض یہ صفت ظلومیت انسان کے مراتب سلوک کا ایک مرکب اور اس کے مقامات قرب کیلئے ایک عظیم الشان ذریعہ اس کو عطا کیا گیا ہے جو بوجہ مجاہدات شاقہ کے اوائل حال میں نار جہنم کی شکل پر بجلی کرتا ہے لیکن آخر نعماء جنت تک پہنچا دیتا ہے اور درحقیقت قرآن کریم کے دوسرے مقام میں جو یہ آیت ہے۔ وَاِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے بعض مقامات میں رمی شہب کا فاعل فرشتوں کو ٹھہرایا اور بعض دوسرے مقامات میں اسی رمی کا فاعل ستاروں کو ٹھہرا دیا کیونکہ فرشتے ستاروں میں اپنا اثر ڈالتے ہیں جیسا کہ جان بدن میں اپنا اثر ڈالتی ہے تب وہ اثر ستاروں سے نکل کر ان ارضی بخارات پر پڑتا ہے جو شہاب بننے کے لائق ہوتے ہیں تو وہ فی الفور قدرت خدا تعالی سے مشتعل ہو جاتے ہیں اور فرشتے ایک دوسرے رنگ میں شہب ثاقبہ سے تعلق پکڑ کر اپنے نور کے ساتھ یمین اور بسیار کی طرف ان کو چلاتے ہیں اور اس بات میں تو کسی فلسفی کو کلام نہیں کہ جو کچھ کائنات الجو ہی نہیں لیکن قرآن کریم نے جو سماوات کی حقیقت بیان کی ہے وہ نہایت صحیح اور درست ہے جس کے ماننے کے بغیر انسان کو کچھ بن نہیں پڑتا اور اس کی مخالفت میں جو کچھ بیان کیا جائے وہ سرا سرنا واقعی یا تعصب پر مبنی ہو گا ۔ قرآن کریم نہ آسمانوں کو یونانی حکماء کی طرح طبقات کثیفہ ٹھہراتا ہے اور نہ بعض نادانوں کے خیال کے موافق نرا پول جس میں کچھ بھی نہیں ۔ چنانچہ شق اول کی معقولی طور پر غلطی ظاہر ہے جس کی نسبت ہم ابھی بیان کر چکے ہیں۔ اور شق دوم یعنی یہ کہ آسمان کچھ بھی وجود مادی نہیں رکھتا الاحزاب : ۷۳