آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 139

روحانی خزائن جلده ۱۳۹ آئینہ کمالات اسلام کرنے کی غرض سے کم کر دینا اور گھٹا دینا اور اس قسم کے ظالموں کا قرآن کریم کے (۱۳۹) دوسرے مقامات میں تو امین بھی نام ہے جن سے اللہ جل شانہ پیار کرتا ہے ۔ غرض ایسا خیال کرنا نعوذ باللہ سخت دھوکا ہے کہ ان ظالموں سے جو اس آیت میں درج ہیں وہ ظالم مراد لئے جائیں جو خدا تعالیٰ کے سخت نا فرمان ہیں اور شرک اور کفر اور فسق کو اختیار کرنے والے اور اس پر راضی ہو جانے والے اور ہدایت کی راہوں سے بغض رکھنے والے ہیں بلکہ وہ ظالم مراد ہیں جو باوجود نفس کے سخت جذبات کے پھر افتاں خیزاں خدا تعالیٰ کی طرف دوڑتے ہیں۔ اس پر ایک اور قرینہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے قرآن کریم کے نزول کی علت غائی هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ قرار دی ہے اور قرآن کریم سے رشد اور ہدایت اور فیض حاصل کرنے والے بالتخصیص متقیوں کو ہی ٹھہرایا ہے حاشیه در حاشیه آسمانی اجرام کیلئے جان کی طرح تھے وہ سب تعلقات کو چھوڑ کر کناروں پر چلے جائیں گے اور اس دن خدا تعالیٰ کے عرش کو آٹھ فرشتے اپنے سر پر اور کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس آیت کی تفسیر میں شاہ عبد العزیز صاحب لکھتے ہیں کہ در حقیقت آسمان کی بقا باعث ارواح کے ہے یعنی ملائک کے جو آسمان اور آسمانی اجرام کیلئے بطور روحوں کے ہیں اور جیسے روح بدن کی محافظ ہوتی ہے اور بدن پر تصرف رکھتی ہے اسی طرح بعض ملائک آسمان اور آسمانی اجرام پر تصرف رکھتے ہیں اور تمام اجرام سماوی ان کے ساتھ ہی زندہ ہیں اور انہیں کے ذریعہ سے صدور افعال کواکب ہے جس کو وہ فلک الافلاک اور محدد بھی کہتے ہیں جو ان کے زعم میں معہ تین اور آسمانوں کے جن کا نام مدیر اور جو زہر اور مائل ہے مشرق سے مغرب کی طرف گردش کرتا ہے اور باقی آسمان مغرب سے مشرق کی طرف گھومتے ہیں اور ان کے گمان میں فلک محدد معمورہ عالم کا منتہا ہے جس کے پیچھے خلا ملا نہیں ۔ گویا خدا تعالیٰ نے اپنے ممالک مقبوضہ کی ایک دیوار کھینچی ہوئی ہے جس کا ماورا کچھ بھی نہیں نہ خلا نہ ملا۔ يت انه كان ظلومًا پس چاہیئے کہ دوست موصوف اس مضمون کو غور سے پڑھیں ۔ کریم کی تشریح آسمانوں کے وجود کی نسبت بالکل صحیح اور ایسی بدیہی صداقت ہے کہ کوئی عقل سلیم اس سے انکار نہیں کرسکتی۔ جھولا میں ظلوما جھولا کے دو لفظ جو مقام مدح میں واقع ہیں ان کے کیا معنی ہیں یونانیوں نے جو آسمانوں کے بارے میں تشریح کی ہے وہ تشریح قرآن کریم کی تشریح کے ساتھ مطابق نہیں ہے اور قرآن ہمارے ایک دوست کو اس بات کی تحقیق کی خو