آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 138

روحانی خزائن جلده ۱۳۸ آئینہ کمالات اسلام ۱۳۸ آپ متکفل ہے اور اس کی بعض آیات بعض دوسری آیات کی شرح کرتی ہیں یہ بات ظاہر ہے کہ اصطفاء کا عزت بخش لفظ بھی دوسرے ظالموں کے حق میں خدا تعالیٰ نے استعمال نہیں کیا بلکہ ان کو مردود اور مخذول اور مورد غضب ٹھہرایا ہے مگر اس جگہ ظالم کو اپنا برگزیدہ قرار دیا۔ اور مورد فضل ٹھہرایا ہے اور اس آیت سے صاف ثابت ہورہا ہے کہ جیسے مقتصد اس لئے برگزیدہ ہے کہ مقتصد ہے اور سابق بالخیرات اس لئے برگزیدہ ہے کہ وہ سابق بالخیرات ہے۔ اسی طرح ظالم بھی اس لئے برگزیدہ ہے کہ وہ ظالم ہے۔ پس کیا اب اس ثبوت میں کچھ کسر رہ گئی کہ اس جگہ ظلم سے مراد وہ ظلم ہے جو خدا تعالیٰ کو پیارا معلوم ہوتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کیلئے اپنے نفس پر ا کراہ اور جبر کرنا اور نفس کے جذبات کو اللہ جل شانہ کے راضی عرض اور جوہر کے حدوث اور قیام کا وہی موجب ہیں یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کے عرش کو بھی وہی اٹھائے ہوئے ہیں جیسا کہ آیت اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَمَّا عَلَيْهَا حَافِظ سے کلی طور پر فرشتوں کا تقرر ہر یک چیز پر ثابت ہوتا ہے اور نیز قرآن کریم کی آیت مندرجہ ذیل بھی اسی پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے وَالْشَقَّتِ السَّمَاءِ فَهِيَ يَوْمَبِذٍ وَاهِيَةٌ وَالْمَلَكَ عَلَى أَرْجَابِهَا وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَبِذٍ ثَمَنِيَةٌ " یعنی جب قیامت واقع ہوگی تو آسمان پھٹ جائے گا اور ڈھیلا اور ست ہو جائے گا اور اس کی قوتیں جاتی رہیں گی ہو کیونکہ فرشتے جو آسمان اور آج کل کے علم ہیئت کے محققین جو یورپ کے فلاسفر ہیں جس طرز سے آسمانوں کے وجود کی نسبت خیال رکھتے ہیں در حقیقت وہ خیال قرآن کریم کے مخالف نہیں کیونکہ قرآن کریم نے اگر چہ آسمانوں کو نرا پول تو نہیں ٹھہرایا لیکن اس سماوی مادہ کو جو پول کے اندر بھرا ہوا ہے صلب اور کثیف اور متعسر الخرق مادہ بھی قرار نہیں دیا بلکہ ہو یا پانی کی طرح نرم اور کثیف مادہ قرار دیا جس میں ستارے تیرتے ہیں اس کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جل شانہ فرماتا ہے كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ ہاں یونانیوں نے آسمانوں کو اجسام کثیفہ تسلیم کیا ہوا ہے اور پیاز کے چھلکوں کی طرح تہ بتہ ان کو مانا ہے اور آخری تہ کا آسمان جو تمام تہوں پر محیط ہو رہا ہے جمیع مخلوقات کا انتہا قرار دیا ہے آسمانوں کی کیفیت حاشیه در حاشیه ل الطارق : ۵ الحاقة : ۱۸۱۷ سيس : ۴۱