آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 127
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۲۷ آئینہ کمالات اسلام اول یہ کہ پہلے نبی اپنے زمانہ کے جمیع بنی آدم کیلئے مبعوث نہیں ہوتے تھے بلکہ وہ (۱۲۷) صرف اپنی ایک خاص قوم کیلئے بھیجے جاتے تھے جو خاص استعداد میں محدود اور خاص طور کے عادات اور عقائد اور اخلاق اور روش میں قابل اصلاح ہوتے تھے پس اس وجہ سے وہ کتابیں قانون مختص القوم کی طرح ہو کر صرف اسی حد تک اپنے ساتھ ہدایت لاتی تھیں جو اس خاص قوم کے مناسب حال اور ان کے پیمانہ استعداد کے موافق ہوتی تھی۔ دوسری وجہ یہ کہ ان انبیاء علیہم السلام کو ایسی شریعت ملتی تھی جو ایک خاص زمانہ تک محدود ہوتی تھی اور خدا تعالیٰ نے ان کتابوں میں یہ ارادہ نہیں کیا تھا کہ دنیا کے اخیر تک وہ ہدایتیں جاری رہیں اس لئے وہ کتابیں قانون مختص الزمان کی طرح ہو کر صرف اسی زمانہ کی حد تک ہدایت لاتی تھیں جو ان کتابوں کی پابندی کا زمانہ حکمت الہی نے پس ملائک ان شہب کے چھوڑنے کے وقت جن پر وہ ستاروں کی حرارت کا بھی اثر ڈالتے ہیں اپنی ایک نورانی طاقت جو میں پھیلاتے ہیں اور ہر یک شہاب جو حرکت کرتا ہے وہ اپنے ساتھ ایک ملکی نور رکھتا ہے کیونکہ فرشتوں کے ہاتھ سے برکت پا کر آتا ہے اور شیطان سوزی کا اس میں ایک مادہ ہوتا ہے۔ پس یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ جنات تو آگ سے مخلوق ہیں وہ آگ سے کیا ضرر اٹھائیں گے ۔ کیونکہ در حقیقت جس قدر ری شہب سے جنات کو ضرر پہنچتا ہے اس کا یہ ظاہری موجب آگ نہیں ۔ بلکہ وہ روشنی موجب ہے جو فرشتہ کے نور سے طہب کے ساتھ شامل ہوتی ہے جو بالخاصيت مُحرق شیاطین ہے۔ اس ہماری تقریر پر کوئی یہ اعتراض نہ کرے کہ یہ تمام تقریر صرف بے ثبوت خیالات اور غایت کار خطا بیات میں سے ہے جس کا معقولی طور پر کوئی بھی ثبوت نہیں کیونکہ ہم اس بات کو بخوبی ثابت کر چکے ہیں کہ اس عالم کی حرکات اور حوادث خود بخود نہیں اور نہ بغیر مرضی مالک اور نہ عبث اور بے ہودہ ہیں بلکہ در پردہ تمام