آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 126

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۲۶ آئینہ کمالات اسلام (۱۳۲) داد خواہ ہیں جن کی وجہ سے سخت اہانت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفوں میں ہو رہی ہے ان لوگوں کے حق میں کیا کہیں اور کیا لکھیں جنہوں نے کفار کو ہنسی اور ٹھٹھہ کا موقع دیا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو حضرت عیسی کی نسبت حقیقت اسلام کا بقیہ ایسا اور اس قدر گھٹا دیا کہ جس کے تصور سے بدن پر لرزہ پڑتا ہے ۔ اب پھر ہم مبحث حقیقت اسلام کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ دراصل یہ حقیقت اسلامیہ جس کی تعلیم قرآن کریم فرماتا ہے کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام اسی حقیقت کے ظاہر کرنے کے بھیجے ہو گئے تھے اور تمام الہی کتابوں کا یہی مدعا رہا ہے کہ تا بنی آدم کو اس صراط مستقیم پر قائم کریں لیکن قرآن کریم کی تعلیم کو جو دوسری تعلیموں پر کمال درجہ کی فوقیت ہے تو اس کی دو وجہ ہیں ۔ ایک مستر شد بڑی آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ شہب ثاقبہ کے تساقط کا ظاہری نظام جن علل اور اسباب پر مبنی ہے وہ عمل اور اسباب روحانی نظام کے کچھ مزاحم اور سد راہ نہیں اور روحانی نظام یہ ہے کہ ہر یک شہاب جو ٹو تھا ہے دراصل اس پر ایک فرشتہ موکل ہوتا ہے جو اس کو جس طرف چاہتا ہے حرکت دیتا ہے چنانچہ شہب کی طرز حرکات ہی اس پر شاہد ہے اور یہ بات صاف ظاہر ہے کہ فرشتہ کا کام عبث نہیں ہو سکتا اس کی تحت میں ضرور کوئی نہ کوئی غرض ہوگی جو مصالح دین اور دنیا کیلئے مفید ہو لیکن ملائک کے کاموں کے اغراض کو سمجھنا بجز توسط ملائک ممکن نہیں سو بتوسط ملائک یعنی جبرائیل علیہ السلام آخر الرسل صلی اللہ علیہ وسلم پر یہی ظاہر ہوا کہ ملائک کے اس فعل رمی شہب سے علت غائی رحم شیاطین ہے ۔ اور یہ بھید کہ شہب کے ٹوٹنے سے کیونکر شیاطین بھاگ جاتے ہیں اس کا سر روحانی سلسلہ پر نظر کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شیاطین اور ملائک کی عداوت ذاتی ہے۔ حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ” کے لئے بھیجے ہونا چاہیے۔ (ناشر)