آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 123 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 123

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۲۳ آئینہ کمالات اسلام وجود کے ساتھ آنحضرت صلعم کے پاس آتے تو خود یہ غیر ممکن تھا کیونکہ ان کا حقیقی وجود تو (۱۲۳ مشرق مغرب میں پھیلا ہوا ہے اور ان کے بازو آسمانوں کے کناروں تک پہنچے ہوئے ہیں پھر وہ مکہ یا مدینہ میں کیونکر سما سکتے تھے۔ جب تم حقیقت اور اصل کی شرط سے جبرائیل کے نزول کا عقیدہ رکھو گے تو ضرور تم پر یہ اعتراض وارد ہو گا کہ وہ اصلی وجود کیونکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ میں سما گیا اور اگر کہو کہ وہ اصلی وجود نہیں تھا تو پھر ترک اصل کے بعد تمثل ہی ہوا یا کچھ اور ہوا اصل کا نزول تو اس حالت میں ہو کہ جب آسمان میں اس وجود کا نام ونشان نہ رہے اور جب آسمان سے وہ وجود نیچے اتر آیا تو پھر ثابت کرنا چاہیے کہ کہاں اس کے ٹھہرنے کی گنجائش ہوئی ۔ غرض یہ خیال کہ جبرائیل اپنے اصلی وجود کے ساتھ زمین پر اتر آتا تھا بدیہی البطلان ہے۔ خاص کر جب دوسری شق کی طرف نظر کریں اور اس f کہ اجرام علومی اور اجسام سفلی اور تمام کائنات الجو میں جو کچھ تغیر اور تحول اور کوئی امر مستحدث ظہور میں آتا ہے اس کے حدوث کی در حقیقت دو علتیں یعنی موجب ہیں۔ اول۔ پہلے تو یہی سلسلہ عمل نظام جسمانی جس سے ظاہری فلسفی اور طبعی بحث اور سر و کار رکھتا ہے ہے اور جس کی نسبت ظاہر بین حکماء کی نظریہ خیال رکھتی ہے کہ وہ جسمانی علل اور معلولات اور موثرات اور متاثرات سے منضبط اور ترتیب یافتہ ہے۔ دوم ۔ دوسرے وہ سلسلہ جو ان ظاہر بین حکماء کی نظر قاصر سے مخفی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے ملائک کا سلسلہ ہے جو اندر ہی اندر اس ظاہری سلسلہ کو مدد دیتا ہے اور اس ظاہری کا روبار کو انجام تک پہنچا دیتا ہے اور بالغ نظر لوگ بخوبی اس بات کو سمجھتے ہیں کہ بغیر تائید اس سلسلہ کے جو روحانی ہے ظاہری سلسلہ کا کام ہرگز چل ہی نہیں سکتا ۔ اگر چہ ایک ظاہر بین فلاسفر اسباب کو موجود پا کر خیال کرتا ہے کہ فلاں نتیجہ ان اسباب کیلئے ضروری ہے مگر ایسے لوگوں کو ہمیشہ شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ تمام تغیرات اجرام علوی اور اجسام سفلی کے لئے دو موجب ہیں