آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 122

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۲۲ آئینہ کمالات اسلام ۱۲۲ تمثل کی بھی ہے جو اہل کشف کو صورت بشر پر نظر آتا ہے اور یہی مثال مکمل اولیا کی ہے جو مواضع متفرقہ میں بصور متعددہ نظر آ جاتے ہیں۔ اس سوال کا جواب کہ تساقط شہب کو رجم شیاطین سے کیا تعلق ہے اس بات پر صحابہ کا اتفاق ہے کہ جبرائیل صرف دو مرتبہ اپنی اصلی صورت میں آسمان پر آنحضرت کو دکھائی دیا ہے اور زمین پر ہمیشہ تمثلی حالت میں دکھائی دیتا رہا ہے ۔ خدا تعالیٰ شیخ بزرگ عبدالحق محدث کو جزاء خیر دیوے کیونکہ انہوں نے بصدق دل قبول کر لیا کہ جبرائیل علیہ السلام بذات خود نازل نہیں ہوتا بلکہ ایک تمثلی وجود انبیاء علیہم السلام کو دکھائی دیتا ہے اور جبرائیل اپنے مقام آسمان میں ثابت و برقرار ہوتا ہے۔ یہ وہی عقیدہ اس عاجز کا ہے جس پر حال کے کور باطن نام کے علماء کفر کا فتویٰ دے رہے ہیں افسوس کہ یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ اس بات پر تمام مفسرین نے اور نیز صحابہ نے بھی اتفاق کیا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے حقیقی وجود کے ساتھ صرف دو مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی دیا ہے اور ایک بچہ بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ اگر وہ اپنے اصلی اور حقیقی گویا ان کے پاس سب سے بڑھ کر یہی نظیریں ہیں وہ ذرہ غور سے سمجھ سکتے ہیں کہ اس صدی کے اواخر میں جو روحانی سلسلہ کے بڑے بڑے کام ظہور میں آنے والے تھے اور خدا تعالیٰ اپنے ایک بندہ کے توسط سے دین توحید کے تازہ کرنے کیلئے ارادہ فرما رہا تھا اس لئے اس نے اس انیسویں صدی عیسوی میں کئی دفعہ کثرت سقوط شہب کا تماشہ دکھلایا تا وہ امر موکد ہو جاوے جس کا قطعی طور پر اس نے ارادہ فرما دیا ہے۔ اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ اس تساقط شہب کو جس کے اسباب بتما مہا بظاہر مادی معلوم ہوتے ہیں رحم شیاطین سے کیا تعلق ہے اور کیونکر معلوم ہو کہ در حقیقت اس حادثہ سے شیاطین آسمان سے دفع اور دور کئے جاتے ہیں ۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ایسے اعتراض در حقیقت اس وقت پیدا ہوتے ہیں کہ جب روحانی سلسلہ کی یادداشت سے خیال ذہول کر جاتا ہے یا اس سلسلہ کے وجود پر یقین نہیں ہوتا ورنہ جس شخص کی دونوں سلسلوں پر نظر ہے وہ بآسانی سمجھ سکتا ہے