آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 116

کے ہر ایک قول وفعل اور حرکت اور الت میں بڑھ کر ہمار۔ روحانی خزائن جلد ۵ ۱۱۶ آئینہ کمالات اسلام پھر وحی کا دریا زور سے چلنے لگتا ہے اور غلطی کو درمیان سے اٹھا دیا جاتا ہے گویا اُس کا کبھی وجود نہیں تھا۔ حضرت مسیح ایک انجیر کی طرف دوڑے گئے تا اُس کا پھل کھائیں اور روح القدس ساتھ ہی تھا مگر روح القدس نے یہ اطلاع نہ دی کہ اس وقت انجیر پر کوئی پھل نہیں ۔ با ایں ہمہ یہ سب لوگ جانتے ہیں کہ شاذ و نادر معدوم کے حکم میں ہوتا ہے۔ پس جس حالت میں ہمارے سید و مولی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے دس لاکھ کے قریب قول و فعل میں سراسر خدائی کا ہی جلوہ نظر آتا ہے اور ہر بات میں حرکات میں سکنات میں اقوال میں افعال میں روح القدس کے چمکتے ہوئے انوار نظر آتے ہیں تو پھر اگر ایک آدھ بات میں بشریت کی بھی بُو آوے تو اس سے کیا نقصان۔ بلکہ ضرور تھا کہ بشریت کے تحقق کے لئے کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا تا لوگ شرک کی بلا میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ سال رہتے ہیں اور آخر ٹوٹ کر شہاب بن جاتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جب آفتاب کرج اسد میں یا میزان میں ہو تو ان دونوں وقتوں میں کثرت مہب ثاقبہ کی توقع کی جاتی ہے اور اکثر ۳۳۰ سال کے بعد یہ دورہ ہوتا ہے لیکن یہ قاعدہ کلی نہیں بسا اوقات ان وقتوں سے پس و پیش بھی یہ حوادثات ظہور میں آجاتے ہیں چنانچہ ۲ عشاء میں ستاروں کا گرنا با قراران بیت دانوں کے بالکل غیر مترقب امر تھا۔ اگر چہ ۱۴؍ نومبر ۱۸۳۳ء اور ۲۷ نومبر ۱۸۸۵ء کو کثرت سے یہ واقعہ ظہور میں آنا اُن کے قواعد مقررہ سے ملتا ہے لیکن تاریخ کے ٹولنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ نہایت فرق کے ساتھ اور ان تاریخوں سے بہت دور بھی وقوع میں آیا ہے چنانچہ دہم مارچ ۱۵۲۱ء اور ۱۹ جنوری ۱۳۵ اء اور ماہ مئی ۶۱۰ء میں جو کثرت شہب ثاقبہ وقوع میں آئے اُس میں ان تمام ہیئت دانوں کو بجز سکتہ حیرت اور کوئی دم مارنے کی جگہ نہیں ۔ اور وہ شہب ثاقبہ جو حضرت مسیح کی گرفتاری کے بعد ظہور میں آئے اور پھر ایک دمدار ستارہ کی صورت میں ہو گئے ۔ اگر چہ اب ہم پوری صحت کے ساتھ اُس کی النجم : ۵۴