آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 115 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 115

روحانی خزائن جلده ۱۱۵ آئینہ کمالات اسلام مائل کر دیتا تھا جس میں خدا تعالیٰ کے بہت مصالح تھے۔ سو ہم اُس اجتہادی غلطی کو بھی وجی (110) سے علیحدہ نہیں سمجھتے کیونکہ وہ ایک معمولی بات نہ تھی بلکہ خدا تعالی اس وقت اپنے نبی کو اپنے * قبضہ میں لے کر مصالح عام کے لئے ایک نور کو سہو کی صورت میں یا غلط اجتہاد کے پیرایہ میں ظاہر کر دیتا تھا اور پھر ساتھ ہی وحی اپنے جوش میں آجاتی تھی جیسے ایک چلنے والی نہر کا ایک ۔ مصلحت کے لئے پانی روک دیں اور پھر چھوڑ دیں پس اس جگہ کوئی عقلمند نہیں کہہ سکتا کہ نہر سے پانی خشک ہو گیا یا اُس میں سے اٹھا لیا گیا ۔ یہی حال انبیاء کی اجتہادی غلطی کا ہے کہ روح القدس تو کبھی اُن سے علیحدہ نہیں ہوتا ۔ مگر بعض اوقات خدا تعالیٰ بعض مصالح کے لئے انبیاء کے فہم اور ادراک کو اپنے قبضہ میں لے لیتا ہے تب کوئی قول یا فعل سہو یا غلطی کی شکل پر اُن سے صادر ہوتا ہے اور وہ حکمت جو ارادہ کی گئی ہے ظاہر ہو جاتی ہے تب اور نہایت تحقیر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم یہ خیال نہ کریں کہ کچھ عرصہ کے بعد اس طبیعی اور ہیئت پر بھی جنسی کرنے والے پیدا ہو جائیں گے کیونکہ گو دعوی کیا جاتا ہے کہ اس زمانہ کے طبعی اور ہیئت تجارب حسیہ مشہودہ مرسیہ کے ذریعہ سے ثابت کی گئی ہے مگر در حقیقت یہ دعویٰ نہایت درجہ کا مبالغہ ہے جس سے بعض خاص صورتوں کے مسائل یقینیہ میں اُن ہزار ہا مشتبہ اور طنی اور غیر محقق خیالات کو خواہ نخواہ گھسیڑ دیا گیا ہے جس کا f ابھی تک ہرگز ہرگز پورا پورا اور کامل طور پر کسی حکیم نے تصفیہ نہیں کیا۔ نئی روشنی کے محقق شہب ثاقبہ کی نسبت یہ رائے دیتے ہیں کہ وہ در حقیقت لو ہے اور کوئلہ سے بنے ہوئے ہوتے ہیں جن کا وزن زیادہ سے زیادہ چند پونڈ ہوتا ہے اور دمدار ستاروں کی مانند غول کے غول لمبے بینوی دائرے بناتے ہوئے سورج کے ارد گرد جو میں پھرتے ہیں۔ ان کی روشنی کی وجہ در حقیقت وہ حرارت ہے جو ان کی تیزی رفتار سے پیدا ہوتی ہے۔ اور دمدار ستاروں کی نسبت اُن کا بیان ہے کہ بعض اُن میں سے کئی ہزار ہے کہ بعض مسائل تجارب کے ذریعہ سے کسی قدر صاف ہو گئے ہیں مگر ان کو باقی ماندہ مسائل کی طرف وہ نسبت ہے جو شاذ و نادر کو کثیر الوجود کی طرف ہوتی ہے۔ یہ دعویٰ بالکل بیہودہ اور بے اصل ہے کہ حال کے طبعی اور ہیئت کے تمام مباحث اور جمیع جزئیات یقینی اور قطعی