آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 113
روحانی خزائن جلد ۵ ١١٣ آئینہ کمالات اسلام یا مشتبہ یہاں تک کہ جو کچھ آنحضرت صلعم کے خاص معاملات و مکالمات خلوت اور ستر میں ۱۱۳ ☆ بیویوں سے تھے یا جس قدرا کل اور شرب اور لباس کے متعلق اور معاشرت کی ضروریات میں روز مرہ کے خانگی امور تھے سب اسی خیال سے احادیث میں داخل کئے گئے کہ وہ تمام کام اور کلام روح القدس کی روشنی سے ہیں چنانچہ ابوداؤ دوغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے اور امام احمد بچند وسائط عبد اللہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ نے کہا کہ میں جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا تھا لکھ لیتا تھا تا میں اُس کو حفظ کرلوں۔ پس بعض نے مجھے کو منع کیا که ایسا مت کر کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں کبھی غضب سے بھی کلام کرتے ہیں تو میں یہ بات سن کر لکھنے سے دستکش ہو گیا ۔ اور اس بات کا رسول اللہ صلعم کے پاس ذکر کیا۔تو آپ نے فرمایا کہ اُس ذات کی مجھ کو قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جو مجھ سے صادر ہوتا ہے خواہ قول ہو یا فعل وہ سب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اگر یہ کہا وہ عنصر نار نظر نہیں آتا اور دیکھنے والے کو یہ گمان گذرتا ہے کہ گویا وہ بجھ گیا ہے حالانکہ در اصل وہ بجھا نہیں ہے اور یہ صورت اُس وقت پیدا ہوتی ہے کہ جب دُخان لطیف ہو لیکن اگر غلیظ ہو تو اشتعال اُس آگ کا کئی دنوں اور برسوں تک رہتا ہے اور طرح طرح کی شکلوں میں وہ روشنی جو ستارہ کے رنگ پر ہے آسمان کے جو میں نظر آتی ہے کبھی ایسا دکھائی دیتا ہے کہ گویا دمدار ستارہ ہے اور کبھی وہ دُم زلف کی شکل پر نظر آتی ہے کبھی وہ ناری ہیکل نیزہ کی صورت میں نمودار ہوتی ہے اور کبھی ایک حیوان کی طرح جو کئی سینگ رکھتا ہے اور کبھی یہ ناری ہیکل بصور مختلفہ ایک برس تک یا کئی برسوں تک دکھائی دیتی ہے اور کبھی یہ ناری ہیکل ٹکڑے ٹکڑے ہو کر شہب ثاقبہ کی صورت میں آجاتی ہے اور کبھی شہب ثاقبہ اس ناری ہیکل کی شکل قبول کر لیتے ہیں جب یہ ناری ہیکل قطب شمالی کے عین کنارہ پر نظر آتی ہے تو بسا اوقات بہ نسبت اور اطراف کے بہت دیر تک رہتی ہے اور اگر مدت دراز تک ا سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ابن عمرو ہونا چاہیے۔ ملاحظہ ہو سنن ابی داؤ د کتاب العلم باب فی کتاب العلم ۔ (ناشر) جناب رسالت ماب رسول اللہ صلعم کے تمام کام اور کلام یہاں تک کہ کیا کھاتے اور کیونکر کھاتے ادا کرتے ایسا ہی ۔ ارشاد فرمایا تھا۔ کے فرائض اور حقوق کیونکر