آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 112

روحانی خزائن جلده ۱۱۲ آئینہ کمالات اسلام ده (1) اخذ نہ کرتے ان کی نظر تو اس آیت پرقى وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوى اِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحی یا اگر صحابہ تمہاری طرح میں شیطان کا اعتقاد رکھتے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سيّد المعصومین کیوں قرار دیتے خدا تعالیٰ سے ڈرو کیوں افتر اپر کمر باندھی ہے۔ مصطف را چون فروتر شد مقام از مسیح ناصری اے طفل خام آنکه دست پاک او دست خداست چوں تواں گفتن که از روحش جداست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کبھی صحابہ کا یہ اعتقاد نہیں ہوا کہ روح القدس آپ سے جدا بھی ہو جاتا تھا یونانیوں کی تحقیق کی رُو سے شہب ثاقبہ کی کیفیت اگر صحابہ یہ اعتقاد رکھتے تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر یک قول وفعل کو حجت دین نہ ٹھہراتے۔ بقيه حاشیه یدالله فوق ایدیهم ۱۲ یعنی از روح القدس ۱۲ آنکہ ہر کردار و قولش دین ناست یکدم از جبریل بعدش چون رواست امام انبیاء ایں افترا چوں نے ترسید از قہر خدا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت صحابہ کا بلاشبہ یہ اعتقاد تھا کہ آنجناب کا کوئی فعل اور کوئی قول وحی کی آمیزش سے خالی نہیں گو وہ وحی مجمل ہو یا مفصل ۔ خفی ہو یا جلی۔ بین ہو جو ان امور سے بیان کئے گئے ہیں کچھ بھی تعلق نہیں رکھتے ۔ چنانچہ شرح اشارات میں جہاں کائنات الجو کے اسباب اور علل لکھے ہیں صرف اسی قدر حدوث شہب کا سبب لکھا ہے کہ جب دخان حیز نار میں پہنچتا ہے اور اس میں کچھ دہنیت اور لطافت ہوتی ہے تو باعث آگ کی تاثیر کے یک دفعہ بھڑک اٹھتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بھڑ کنے کے ساتھ ہی بجھ گیا مگر اصل میں وہ بجھتا نہیں ۔ بات یہ ہے کہ دُخان کی دونوں طرفوں میں سے پہلے ایک طرف بھڑک اٹھتی ہے جو اوپر کی طرف ہے پھر وہ اشتعال دوسری طرف میں جاتا ہے اور اُس حرکت کے وقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اُس اشتعال کا ایک خط ممتد ہے اور اسی کا نام شہاب ہے جو د خان کے خط ممتد میں طرف اسفل کے قریب پیدا ہوتا ہے اور پھر جب اجزاء ارضیہ اُس دخان کی آتش خالص کی طرف مستحیل ہو جاتی ہیں تو بوجہ پیدا ہو جانے بساطت کے النجم: ۵۴